عافیہ صدیقی کی رہائی کیس میں اہم پیش رفت، اسلام آباد ہائیکورٹ کا لارجر بینچ تشکیل
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی سے متعلق دائر درخواست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کے لیے چار رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا ۔
کیس کی سماعت 10 ستمبر کو مقرر کی گئی جس کی صدارت جسٹس ارباب محمد طاہر کریں گے۔ دیگر ججز میں جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس اعظم خان اور جسٹس راجہ انعام امین منہاس شامل ہیں۔
یہ کیس اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب گزشتہ سماعت پر جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ عدالتی احکامات کے باوجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے حکومتی اقدامات غیر تسلی بخش ہیں۔
بعد ازاں جسٹس سردار اعجاز کو ٹیکس مقدمات کے لیے سپیشل ڈویژن بینچ کا حصہ بنا دیا گیا، جس کے بعد سنگل بینچ کے مقدمات، بشمول یہ کیس، دوسرے ججوں کو منتقل کر دیے گئے۔ یکم ستمبر کو جسٹس راجہ انعام امین منہاس نے معاملہ چیف جسٹس کو لارجر بینچ بنانے کے لیے بھیجا تھا، جس پر اب باقاعدہ بنچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے معاملے پر عوامی حلقوں، انسانی حقوق تنظیموں اور مختلف سیاسی و سماجی شخصیات کی جانب سے بھی مسلسل دباؤ موجود ہے، اور اب اس کیس میں عدالتی کارروائی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
مزید پیش رفت اور 10 ستمبر کی سماعت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جو ممکنہ طور پر ڈاکٹر عافیہ کے کیس میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: عافیہ صدیقی کی رہائی ڈاکٹر عافیہ کے لیے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔