اگر آپ کے پاس 25 ہزار روپے مالیت کا پرائز بانڈ ہے، تو تیار ہو جائیں — کیونکہ اس کی قرعہ اندازی 10 ستمبر 2025 کو ہونے جا رہی ہے۔ یہ وہ موقع ہے جس کا انتظار ہزاروں سرمایہ کار ہر تین ماہ بعد کرتے ہیں۔
نیشنل سیونگز سینٹر کراچی میں 25,000 روپے کے پریمیم پرائز بانڈ (رجسٹرڈ) کی انیسویں قرعہ اندازی کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس بانڈ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ یہ رجسٹرڈ ہوتا ہے، یعنی بانڈ خریدار کے نام پر جاری کیا جاتا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف آپ قرعہ اندازی میں شامل ہوتے ہیں بلکہ ہر چھ ماہ بعد منافع بھی حاصل کرتے ہیں۔
25,000 روپے کے پریمیم بانڈ میں انعامات کی تقسیم کچھ یوں ہے:
پہلا انعام: 3 کروڑ روپے کے 2 انعامات
دوسرا انعام: 1 کروڑ روپے کے 5 انعامات
تیسرا انعام: 3 لاکھ روپے کے 700 انعامات
 ٹیکس کی کٹوتی کا طریقہ 
اگر آپ خوش نصیب فاتح ہیں تو انعام کی رقم آپ کے بینک اکاؤنٹ میں براہِ راست منتقل کر دی جائے گی — کسی دعوے یا پیچیدہ عمل کی ضرورت نہیں۔ البتہ، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کے لیے 15% اور نان فائلرز کے لیے 30% ٹیکس کٹوتی لاگو ہوگی۔
 بانڈز میں سرمایہ کاری کیوں؟
پرائز بانڈز کو پاکستان میں ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ ان پر ماہانہ منافع نہیں ہوتا، لیکن انعامی رقم کے امکانات اور سرکاری گارنٹی کی بدولت یہ بانڈز عام افراد سے لے کر سنجیدہ سرمایہ کاروں تک کے لیے پرکشش انتخاب بن چکے ہیں۔

Post Views: 7.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی