ہارو دریا پر قائم خانپور ڈیم کا پانی خطرے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق ڈیم کا موجودہ لیول 1981.55 فٹ تک پہنچ چکا ہے جبکہ اس کی کل ذخیرہ گنجائش 1982 فٹ ہے۔

https://.twittercom/ndmapk/status/1964265479507452063

ترجمان نے بتایا کہ پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے آج شام 5 بجے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے ہارو دریا میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔

انتظامیہ نے نشیبی اور دریا کے قریب رہنے والی آبادیوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:متاثرین سیلاب کے لیے امدادی سامان کیساتھ پہلی امریکی پرواز پاکستان پہنچ گئی

کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر میں گزشتہ برس کے سپل وے آپریشن کا حوالہ بھی شامل کر دوں تاکہ یہ مزید مکمل نظر آئے؟

واضح رہے کہ مون سون بارشوں نے پاکستان میں سیلابی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔ پنجاب، سندھ اور جنوبی علاقوں میں دریاؤں کی بلند سطح سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

اسلام آباد اور پنجاب کے بیشتر اضلاع میں 7 تا 9 ستمبر بارشوں کا امکان۔مری، اسلام آباد راولپنڈی جہلم، چکوال، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، چنیوٹ، لاہور، سیالکوٹ نارووال شیخوپوره، فیصل آباد، سرگودھا میں شہری سیلاب اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ pic.

twitter.com/W6XbbYknZU

— NDMA PAKISTAN (@ndmapk) September 5, 2025

حکومت اور ریسکیو ادارے مسلسل ریلیف آپریشنز میں مصروف ہیں جبکہ وزیراعظم، وفاقی و صوبائی حکومتیں متاثرین کی بحالی کو اولین ترجیح قرار دے رہی ہیں۔

پنجاب میں پانی کی سطح میں کمی مگر خطرہ برقرار

پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کے مطابق دریائے ستلج میں پانی کی سطح بتدریج کم ہورہی ہے۔

قصور، ہیڈ اسلام اور سلیمانکی میں حالات بہتر ہونے لگے ہیں جبکہ ملتان کے مقام پر بھی پانی نیچے جا رہا ہے۔

تاہم دریائے چناب میں سیلابی ریلے کا زور برقرار ہے اور چند مقامات پر صورتحال خطرناک بتائی جا رہی ہے۔

دریائے چناب اور ستلج کی صورتحال

ڈپٹی کمشنر جھنگ کے مطابق دریائے چناب میں تریموں ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 12 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:متاثرین سیلاب کے لیے امدادی سامان کیساتھ پہلی امریکی پرواز پاکستان پہنچ گئی

ستلج کے مقامات پر بھی اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے، جہاں قاسم والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر پانی کی سطح بلند ہے۔

سندھ کے بیراجوں پر کڑی نگرانی

سندھ میں گڈو، سکھر اور کوٹری بیراجوں پر اونچے درجے کے پانی کی آمد و اخراج کو مسلسل مانیٹر کیا جا رہا ہے۔

????فلڈ بولیٹن سی (وارننگ) اوراگلے 24 گھنٹوں کے لیے دریاؤن کے اہم مقامات پر متوقع پانی کی آمد اور سیلابی سطح کی پیشنگوئی۔@GovtofPakistan @pmdgov @ndmapk @GovtofPunjabPK @PdmapunjabO @PMOAJK @PDMAKP @PMOAJK @csgbpk @GovernmentKP pic.twitter.com/Xi5BEgnVIT

— FFDLahore (@ffdlhr) September 6, 2025

اطلاعات کے مطابق گڈو بیراج پر 3 لاکھ 48 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ سکھر بیراج پر بھی 3 لاکھ 31 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔

متاثرین اور امدادی سرگرمیاں

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق اب تک 21 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، 9 ہزار سے زائد گھر اور 6 ہزار سے زائد مویشی ضائع ہوچکے ہیں۔

حکومت نے 2 ملین روپے فی شہید اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ 1.3 ارب روپے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کو ریلیف آپریشنز کے لیے جاری کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم کی ہدایات

وزیراعظم شہباز شریف نے متاثرین کی بحالی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ ریلیف اور بحالی کے کام میں کوئی کمی نہ رہنے دی جائے۔

6 ستمبر صبح 9 بجے دریائے چناب، راوی اور ستلج کے اہم مقامات پر پانی کے بہاو اور سیلابی سطح کی تازہ ترین صورتحال۔ pic.twitter.com/wTuRrJMpuc

— FFDLahore (@ffdlhr) September 6, 2025

انہوں نے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے جامع منصوبہ بنانے کی بھی ہدایت دی۔

بلاول بھٹو کے مطالبات

پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سیلاب متاثرہ کسانوں کے بجلی کے بل اور زرعی قرضے معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سیلاب متاثرین کی بحالی حکومت کی ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریف

انہوں نے کہا کہ کسانوں کے لیے بیج اور کھاد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین کو ہنگامی امداد دی جائے۔

بین الاقوامی تعاون

امریکا نے سیلاب متاثرین کے لیے امداد کا اعلان کیا ہے۔ چھ پروازوں کے ذریعے خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹر پاکستان پہنچائے جائیں گے۔

U.S. military aircraft delivered essential supplies at the request of the Pakistan military in response to the devastating floods. At Nur Khan Air Base, CDA Baker extended her deepest condolences to the people of Pakistan, whose lives have been uprooted by the widespread,… pic.twitter.com/60XFcQjShO

— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) September 6, 2025

پہلا جہاز اسلام آباد پہنچ چکا ہے اور امدادی سامان پاک فوج کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

بھارت سے تنازع

پاکستان نے بھارت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے دریاؤں کے پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے سے انکار کرکے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت نے ستلج میں مزید سیلابی ریلا چھوڑ دیا، دریاؤں میں پانی کی سطح میں خطرناک اضافہ

وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ بھارت دریا کے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: یہ بھی پڑھیں دریائے چناب پانی کی سطح مقامات پر میں پانی کے مطابق کے لیے رہا ہے گیا ہے

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب