امریکی وفد نے این ڈی ایم اے کا دورہ کیا، جہاں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاک امریکا تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر کی قیادت میں امریکی سینٹرل کمانڈ اور ڈیزاسٹر ریسپانس گروپ نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر امریکی محکمہ خارجہ کی ڈیزاسٹر ایکسپرٹ برائے ایشیا ایوانا ووکو اور ان کی ٹیم نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

2 روزہ مشاورتی اجلاس میں قدرتی آفات کے تدارک اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کے اقدامات پر تبادلہ خیال ہوا۔

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وفد کو ادارے کی استعداد، پیشگی انتباہی نظام اور عالمی تعاون کے طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ اجلاس میں این ڈی ایم اے کی بین الاقوامی مشقوں، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز اور سیلاب سے متعلق پیشگی وارننگ سسٹم پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

نیٹلی بیکر نے این ڈی ایم اے کے جدید ماڈل اور علاقائی ممالک کے ساتھ مشترکہ اقدامات کو خطے کے لیے قابلِ تقلید قرار دیا۔ امریکی وفد نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو 2025ء  کے سیلاب سمیت قدرتی آفات میں سامان، تکنیکی ماہرین اور فلاحی اداروں کے ذریعے بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی۔

لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک فرینک نے این ڈی ایم اے کے فعال اقدامات اور این ای او سی کے کلیدی کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ آفات سے بچاؤ اور مشترکہ فرضی مشقوں کے ذریعے تعاون مزید مضبوط کیا جائے گا تاکہ خطے کو بڑھتے موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈی ایم اے قدرتی آفات

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ