WE News:
2026-07-24@03:30:09 GMT

پاکستان میں قدرتی آفات یا انسانی غفلت؟

اشاعت کی تاریخ: 6th, September 2025 GMT

تحریر: اظہر لغاری

پاکستان ایک بار پھر شدید ترین قدرتی آفات کی لپیٹ میں ہے۔ کہیں موسلا دھار بارشوں نے بستیاں اجاڑ دیں تو کہیں زمین کھسکنے سے پوری کی پوری آبادی مٹی کے تودوں تلے دب گئی۔

شمالی علاقوں میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، وادیوں میں کلاؤڈ برسٹ قیامت ڈھا رہے ہیں اور جنوبی علاقوں میں سیلاب نے کھڑی فصلیں تباہ کر دی ہیں۔ یہ سب محض قدرتی حادثات نہیں بلکہ ایک سخت انتباہ ہے کہ کلائمیٹ چینج اب کتابوں کی تھیوری نہیں رہا بلکہ پاکستان کی تلخ حقیقت بن چکا ہے۔

ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں پر موجود ہزاروں گلیشیئر ہماری زندگی کی شہ رگ ہیں۔ انہی سے دریاؤں میں پانی آتا ہے، انہی سے کھیت سرسبز رہتے ہیں اور انہی پر ہماری زراعت اور معیشت کھڑی ہے۔

لیکن افسوس کہ یہی گلیشیئر اب خطرناک حد تک تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق اگر یہی رفتار رہی تو آنے والے برسوں میں ہمیں پانی کی قلت اور تباہ کن فلش فلڈز دونوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کلاؤڈ برسٹ میں چند منٹوں میں مہینوں جتنی بارش برس پڑتی ہے اور یہ پاکستان کے لیے نیا مگر جان لیوا چیلنج ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے اس تباہی سے گزر چکے ہیں۔ کچے مکانات منٹوں میں بہہ جاتے ہیں، سڑکیں، پل اور رابطہ ذرائع مٹی کے ڈھیر بن جاتے ہیں۔ یہ سب محض فطری مظاہر نہیں بلکہ ہماری ناقص منصوبہ بندی اور ماحولیاتی بے حسی کا نتیجہ بھی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ ہم نے اپنے جنگلات کا کیا حال کیا؟ دریاؤں کے کناروں پر بے ہنگم تعمیرات کیوں کیں؟ بارش کے پانی کے نکاس کے لیے شہروں میں آج تک مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا گیا؟ زمین کھسکنے اور لینڈ سلائیڈنگ کا بڑا سبب بے دریغ درختوں کی کٹائی اور پہاڑوں پر غیر منصوبہ بند آبادیاں ہیں۔

پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ مگر ہم نے نہ اپنی پالیسیوں کو بدلا اور نہ ہی اپنی عادات کو۔ آج بھی ہم ماحول کو برباد کرنے والی توانائی پر انحصار کر رہے ہیں۔

آج بھی ہم پلاسٹک کے پہاڑ کھڑے کر رہے ہیں اور آج بھی ہم شجر کاری کو دکھاوا سمجھ کر چند فوٹو سیشنز پر اکتفا کرتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ہم جاگ جائیں۔ حکومت کو چاہیے کہ کلائمیٹ ایمرجنسی کا اعلان کرے، قومی سطح پر موسمیاتی پالیسی مرتب کرے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرائے۔

بڑے ڈیمز کے ساتھ ساتھ چھوٹے ڈیمز اور واٹر ریچارجنگ سسٹمز کو ترجیح دی جائے۔ شہروں میں بارش کے پانی کے ذخیرے اور نکاسی کا نظام جدید خطوط پر استوار ہو۔ اسکول کی سطح پر بچوں کو ماحولیات کی تعلیم دی جائے تاکہ آئندہ نسلیں وہ غلطیاں نہ دہرا سکیں جو ہم نے کیں۔

اگر ہم نے اب بھی اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو یہ طوفان، یہ سیلاب، یہ لینڈ سلائیڈنگ اور یہ کلاؤڈ برسٹس ہمارے شہروں، ہماری معیشت اور ہماری زندگیوں کو بہا لے جائیں گے۔ قدرت کی یہ پکار ہے اور اس بار خاموشی تباہی کو دعوت دینے کے مترادف ہوگی۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ویب ڈیسک

وی نیوز کا آفیشل ویب ڈیسک اکاؤنٹ

پاکستان پاکستان میں قدرتی آفات قدرتی آفات ماحولیاتی بے حسی موسمیاتی تبدیلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان میں قدرتی ا فات قدرتی ا فات ماحولیاتی بے حسی موسمیاتی تبدیلی رہے ہیں

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف