غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے مزید 69 فلسطینی شہید ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق صیہونی فوج کی جانب سے غزہ کے بےگھر فلسطینیوں کے اسکولوں، اسپتالوں، کیمپوں، خیموں اور خوراک تقسیم کرنے والے مرکز پر بمباری کی گئی، جس کے نتیجے میں بچوں اور عورتوں سمیت کم از کم 69 فلسطینی شہید اور 422 زخمی ہوئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج نے غزہ میں خوراک کی تلاش میں نکلنے والے نہتے شہریوں پر حملے جاری ہیں، اسرائیلی بمباری اور فائرنگ کے نتیجے میں خوراک کے حصول کے لیے باہر نکلنے والے مزید 6 فلسطینی شہید اور 190 زخمی ہو چکے ہیں۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 422 زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں بھوک اور غذائی قلت کے باعث گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 3 فلسطینی شہید ہو گئے ہیں، اس طرح شدید غذائی بحران کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 376 تک جا پہنچی ہے، جن میں 134 بچے شامل ہیں۔

غزہ کی صورتحال پر صحت کے حکام نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر کے 43 ہزار سے زائد بچے اس وقت شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ اسی طرح 55 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین بھی غذائی کمی کے مسائل سے دوچار ہیں۔

وزارت نے بتایا کہ 27 مئی سے اب تک انسانی امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 2,362 ہو گئی ہے، جب کہ زخمیوں کی مجموعی تعداد 17,434 سے تجاوز کر گئی ہے۔

فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ غزہ میں 18 مارچ سے دوبارہ شروع ہونے والے اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 11,768 سے تجاوز کر گئی ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے اب تک 49,964 سے زائد فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔

فلسطینی فٹبال ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ 22 ماہ میں اسرائیلی حملوں میں اب تک 662 فلسطینی کھلاڑی اور اسپورٹس عہدے دار شہید ہوئے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صیہونی فوج نے 22 ماہ سے جاری جنگ میں 248 فلسطینی صحافی شہید کیا ہے۔

7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 64 ہزار 300 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہیں۔

حکومتی میڈیا دفتر کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے صیہونی فوج کی بمباری میں اب تک شہید فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 83,740 سے تجاوز کر چکی ہے، ملبے تلے دبے ہزاروں افراد کو مردہ قرار دیا جا رہا ہے۔

غزہ وزارت صحت کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں کے باعث زخمیوں کی تعداد 162,005 تک پہنچ گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: کی مجموعی تعداد اسرائیلی حملوں فلسطینی شہید کے نتیجے میں سے تجاوز کر کے مطابق شہید ہو گئی ہے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری