امریکی ٹیرف کے بعد 88 ممالک نے ڈاک بھیجنا بند کر دیا، ترسیل میں 80 فیصد کمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
واشنگٹن / جنیوا (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک نے امریکا کو ڈاک اور پارسل بھیجنا مکمل یا جزوی طور پر بند کر دیا ہے۔ اس اقدام سے امریکا جانے والی ڈاک کی ترسیل میں 81 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اقوام متحدہ کی ڈاک سے متعلق ایجنسی یونیورسل پوسٹل یونین (UPU) کے ڈائریکٹر جنرل ماساہیکو میتوکی کے مطابق ادارہ ایک تکنیکی حل پر کام کر رہا ہے تاکہ امریکا کے ساتھ ڈاک کا نظام دوبارہ فعال ہو سکے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ 29 اگست سے امریکا میں داخل ہونے والے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس چھوٹ ختم ہو جائے گی۔ اس فیصلے کے بعد برطانیہ، فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی، جاپان اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے امریکا کے لیے ڈاک قبول کرنا بند کر دیا۔
یو پی یو کے اعداد و شمار کے مطابق 29 اگست کو امریکا کو بھیجی جانے والی ڈاک کی ترسیل ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں 81 فیصد کم رہی۔ معطل کرنے والوں میں جرمنی کا ڈوئچے پوسٹ، برطانیہ کا رائل میل اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے دو آپریٹرز بھی شامل ہیں۔
پاکستان نے بھی امریکا کے خلاف ٹیرف میں اضافے کے بعد ڈاک اور پارسل کی ترسیل روک دی ہے۔ ڈاک حکام کے مطابق فیصلہ عارضی ہے اور عالمی سطح پر متبادل حل نکالنے کے لیے یو پی یو کی کوششیں جاری ہیں
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔