Daily Sub News:
2026-06-03@07:14:30 GMT

انقلابِ قرض سے آزادی: خودمختاری کے نئے باب کی جانب

اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT

انقلابِ قرض سے آزادی: خودمختاری کے نئے باب کی جانب

انقلابِ قرض سے آزادی: خودمختاری کے نئے باب کی جانب WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز

تحریر: محمد عارف، قائد تحریکِ انقلابِ پاکستان

پاکستان کی تاریخ اگر کھولی جائے تو سب سے نمایاں باب قرض کا ہے۔ آزادی کے بعد سے ہم نے ترقی اور سہولتوں کے خواب دیکھے لیکن ان خوابوں کو پورا کرنے کے لیے قرض لیا۔ ابتدا میں یہ سوچا گیا کہ یہ قرض ترقی کا ذریعہ بنے گا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ قرض کی زنجیریں مضبوط ہوتی گئیں اور آج پاکستان اپنے سب سے بڑے بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔

ہر آنے والی حکومت نے قوم کو قرض کے بوجھ میں مزید دھکیل دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری کھو بیٹھا۔ عالمی اداروں اور قرض دینے والے ممالک نے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ ہمارے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہونا شروع کر دیا۔

2006 میں پاکستان کا بیرونی قرض 30 ارب ڈالر تھا، جو صرف پانچ سال میں بڑھ کر 58 ارب ڈالر ہو گیا۔ 2017 میں یہ 107 ارب ڈالر سے اوپر جا پہنچا، جو ہمارے جی ڈی پی کا تقریباً 67 فیصد تھا۔ پھر سی پیک کے تحت چین سے بڑے پیمانے پر قرض لیے گئے۔ 2020 تک صرف چین کا قرض ہی 30 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ 2021-22 میں قرض 115 ارب ڈالر سے زیادہ ہوا اور دسمبر 2023 میں یہ 131 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ آج عوامی قرضہ 71 ہزار ارب روپے سے اوپر ہے اور بیرونی قرض تقریباً 98 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ یہ اعداد محض اعداد نہیں بلکہ ہماری آزادی پر سوالیہ نشان ہیں۔

“قرض نے پاکستان کی آزادی کو محدود کیا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ ہم ان زنجیروں کو توڑیں اور اپنی خارجہ پالیسی کو آزاد کریں۔”

لیکن سوال یہ ہے کہ ہم یہ انقلاب کیسے برپا کریں؟ تحریکِ انقلابِ پاکستان کا جواب صاف اور دوٹوک ہے: یہ انقلاب خونی نہیں ہوگا۔ یہ انقلاب پرامن ہوگا، الزام تراشی کے بغیر ہوگا، اور صرف ذمہ داری کے احساس پر کھڑا ہوگا۔ ہمارا مقصد کسی کو ماضی کا ذمہ دار ٹھہرانا نہیں بلکہ مستقبل کو اپنے ہاتھوں میں لینا ہے۔

یہ سفر ہم اوورسیز پاکستانیوں کے تعاون سے طے کریں گے۔ وہ لاکھوں پاکستانی جو اپنی محنت اور پسینے کی کمائی سے دنیا بھر میں نام کماتے ہیں، ہمیشہ اپنے وطن کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ سیلاب ہو، زلزلہ ہو یا کوئی معاشی بحران—اوورسیز پاکستانیوں نے اپنے وطن کے لیے قربانی دی ہے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ اسی جذبے کو ایک منظم مقصد کے لیے استعمال کیا جائے۔

“اوورسیز پاکستانی قرض کے بوجھ کو ختم کرنے کے سب سے بڑے محرک ہیں۔ یہی وہ طاقت ہے جو انقلاب کو کامیاب بنائے گی۔”

جب قرض ختم ہوگا تو پاکستان اپنی خارجہ پالیسی آزادانہ طور پر تشکیل دے گا۔ ہم اپنے فیصلے خود کریں گے، اپنے دوست خود چنیں گے، اور اپنی پالیسی صرف اور صرف عوامی مفاد میں بنائیں گے۔ نہ کوئی بیرونی دباؤ ہوگا اور نہ کوئی مجبوری۔ یہی وہ لمحہ ہوگا جب پاکستان دنیا میں ایک باوقار اور خودمختار ریاست کے طور پر ابھرے گا۔

یہ تحریک الزام نہیں بلکہ ذمہ داری کا پیغام ہے۔ ہم ماضی کی غلطیوں پر بحث نہیں کریں گے بلکہ مستقبل کو درست کریں گے۔ یہ قوم اپنی قربانیوں سے جلد وہ دن دیکھے گی جب پاکستان سر بلند ہوگا اور دنیا میں فخر سے کہہ سکے گا کہ ہم آزاد ہیں۔

یہی اصل انقلاب ہے—ایسا انقلاب جو خون کے بغیر ہوگا، ایسا انقلاب جو الزام کے بغیر ہوگا، اور ایسا انقلاب جو پاکستان کو قرض کی زنجیروں سے آزاد کر کے خودمختاری کے نئے باب کی طرف لے جائے گا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرتل ابیب میں ہزاروں اسرائیلیوں کا مظاہرہ، صدر ٹرمپ سے غزہ جنگ ختم کرنے کا مطالبہ یوم دفاع حجاب: پاکستان کی روایت، ترکیہ کا سفر قدرتی آزمائشیں اور رسولِ اکرم ﷺ کی تعلیمات ایس سی او تھیانجن سمٹ 2025 حضرت محمد ﷺ: تمام انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت انقلاب اور پاکستان TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو 41 رنز سے شکست دے دی
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ