پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے معروف مصنف اور شاعر خلیل الرحمٰن قمر نے اپنے ڈراموں پر کی جانے والی تنقید پر کھل کر اظہارِ خیال کیا ہے۔

صحافی امبرین فاطمہ کے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے پروجیکٹس پر چند مشہور شخصیات—جن میں نادیہ خان، ماریہ خان اور عتیقہ اوڈھو شامل ہیں—بلاوجہ تنقید کرتی ہیں۔

نادیہ خان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کا اداکاری سے کوئی تعلق نہیں، نہ وہ اردو جانتی ہیں اور نہ ہی انگریزی۔ اسی وجہ سے انہوں نے کبھی ان کے ساتھ کام کرنے کا سوچا بھی نہیں۔ اس کے برعکس، ماریہ خان اور عتیقہ اوڈھو کے ساتھ کام کرنے کا ارادہ ضرور رہا ہے، لیکن چونکہ وہ اردو زبان میں کمزور ہیں اور پاکستانی ڈرامے خالص اردو میں بنتے ہیں، اس لیے اداکاروں کو یہ زبان سیکھنا ضروری ہے۔

خلیل الرحمٰن قمر نے واضح کیا کہ چونکہ انہوں نے ماریہ خان اور عتیقہ اوڈھو کے ساتھ ابھی تک کوئی پروجیکٹ نہیں کیا، اس لیے ان کی تنقید کو وہ جائز سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی یہ دونوں اداکارائیں اردو میں مہارت حاصل کر لیں گی، وہ ضرور ان کے ساتھ کام کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے ان دونوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ سینئر فنکارائیں ہیں جنہوں نے برسوں انڈسٹری میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ ماریہ خان کے ڈرامے *تنہائیاں* اور *دھوپ کنارے* دیکھ چکے ہیں جبکہ عتیقہ اوڈھو کا صرف ایک ڈرامہ دیکھا تھا، جو غالباً *دشت* یا *نجات* تھا۔ ان کے مطابق بعد کے ڈرامے انہوں نے نہیں دیکھے، لیکن خواہش ہے کہ ایک دن یہ دونوں ان کے کام سے مطمئن ہو جائیں۔

یاد رہے کہ خلیل الرحمٰن قمر کے کئی سپر ہٹ ڈرامے—*پیارے افضل*، *میرے پاس تم ہو*، *صدقے تمہارے* اور حالیہ *میں منٹو نہیں ہوں*—ناظرین میں بے حد مقبول ہو چکے ہیں۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: خلیل الرحم ن قمر عتیقہ اوڈھو ماریہ خان انہوں نے کے ساتھ

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف