دبئی میں مقیم بھارتی تاجر اربوں روپے کی منشیات اسمگلنگ میں ملوث نکلا، انٹرپول حرکت میں آگئی
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
بھارت کی نارکوٹکس کنٹرول بیورو (NCB) نے دبئی میں مقیم پون ٹھاکر کے خلاف انٹرپول کا پہلا سلور نوٹس جاری کیا ہے۔
ٹھاکر پر الزام ہے کہ اس نے نومبر 2024 میں دہلی میں پکڑی جانے والی 82 کلو اعلیٰ معیار کی کوکین اسمگل کی، جس کی مالیت تقریباً 2,500 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 83 ارب پاکستانی روپے) بنتی ہے۔
تحقیقات کے مطابق پون ٹھاکر پہلے دہلی میں حوالہ کاروبار کرتا تھا اور بعد ازاں منشیات و منی لانڈرنگ کے عالمی نیٹ ورک میں شامل ہوگیا۔
اس نے دبئی، سنگاپور، ہانگ کانگ اور یورپ میں شیل کمپنیاں بنا کر جائیدادوں اور کاروبار میں سرمایہ لگایا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں خاتون پر درخت سے باندھ کر تشدد اور بے لباس کرنے کی کوشش
ای ڈی (Enforcement Directorate) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ اس کے گروہ نے 681 کروڑ بھارتی روپے (تقریباً 22 ارب 60 کروڑ پاکستانی روپے) جعلی درآمد و برآمد، کرپٹو ٹرانزیکشنز اور جھوٹی دستاویزات کے ذریعے منی لانڈرنگ کی۔
ٹھاکر بھارت میں طلب کیے جانے پر پیش نہ ہوا اور اپنے خاندان کے ہمراہ دبئی منتقل ہوگیا۔ اس کے 5 ساتھی دہلی سے گرفتار ہو چکے ہیں جبکہ بھارت حکومت اس کی واپسی کے لیے عالمی تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسمگلنگ بھارت بھارتی تاجر پون ٹھاکر دبئی منشیات نارکوٹکس کنٹرول بیورو.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسمگلنگ بھارت بھارتی تاجر منشیات
پڑھیں:
حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کیلئےحاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سٹاک مارکیٹ میں مندی، انڈیکس ایک لاکھ 70 ہزار پوائنٹس کی حد کھو بیٹھا
دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔
سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔
دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔
ٹرمپ کو بغیر سوچے سمجھے جارحیت کی قیمت چکانا پڑے گی: عباس عراقچی
حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔
پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت کا اعلان
وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔