گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کا ریچھ کے حملے کے بعد پہلا ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
اسکردو میں ریچھ کے حملے کا شکار ہونے والی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ کی ٹیم نے ان کی صحت سے متعلق پہلا باضابطہ بیان جاری کردیا۔
قرۃ العین بلوچ کے انسٹاگرام پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گلوکارہ حال ہی میں بلتستان کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کام کرنے گئی تھیں جہاں وہ جامع ڈیزاسٹر ریسپانس سروسز (سی ڈی آر ایس) کے ہمراہ متاثرہ دیہات میں امدادی سرگرمیوں میں شریک تھیں۔
بیان کے مطابق 4 ستمبر کی رات دورانِ قیام، خیمے میں موجودگی کے وقت ان پر بھورے ریچھ نے حملہ کیا تاہم سی ڈی آر ایس ٹیم نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ریچھ کو بھگا دیا۔
متعلقہ خبر: پاکستانی گلوکارہ قرۃ العین بلوچ پر ریچھ نے حملہ کردیا
قرۃ العین بلوچ کو فوراً قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور کوئی فریکچر نہیں ہوا۔ وہ تیزی سے صحت یاب ہورہی ہیں۔
گلوکارہ کی ٹیم نے مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وقت ان کی پرائیویسی کا خیال رکھیں کیونکہ قرۃ العین کو مکمل آرام کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی تمام عوامی سرگرمیوں کو ان کی صحت یابی تک ملتوی کردیا گیا ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Quratulain قراۃلعین بلوچ (@qbalouch)
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: قرۃ العین بلوچ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔