ایشیا کپ: سابق کرکٹرز کا ٹیم کو سپورٹ کرنے پر زور، بولنگ اور بیٹنگ کمبینیشن پر تحفظات
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
پاکستان کے سابق کرکٹرز نے زور دیا ہے کہ ایشیا کپ کے دوران قومی ٹیم کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے، تاہم بولنگ اور بیٹنگ کمبینیشن پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کارکردگی اور آئندہ ایونٹس کے حوالے سے سابق کھلاڑیوں نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف سے متعلق الزامات، پی سی بی کا قانونی کارروائی کا اعلان
سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق نے کہا کہ ہمارے دور میں ون ڈے اور ٹیسٹ کرکٹ زیادہ کھیلی جاتی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں ہر حال میں پاکستان ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ ’یہ ٹیم ابھی بننے کے مرحلے میں ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں اچھی کارکردگی دکھائے گی۔‘
انہوں نے کہاکہ پوری دنیا میں نئی ٹیمیں تیار کی جا رہی ہیں اور پاکستان کی یہ ٹیم بہترین پرفارمرز پر مشتمل ہے، جس میں چار سے پانچ ہارڈ ہٹر شامل ہیں۔ کھلاڑیوں کو یہ پیغام دیا جا چکا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو میچز جتوانے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ٹیم میں گیارہ کھلاڑی ایک ساتھ پرفارم نہیں کرتے، اس لیے ہمیں حارث کو اعتماد دینا ہوگا۔
ایک ذاتی حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 12 سال پہلے ایک فنکشن میں بھارتی اداکارہ تمنا بھاٹیا سے ملاقات ہوئی تھی۔
عبدالرزاق کے مطابق تمنا بھاٹیا ایک اچھی اداکارہ ہیں اور انہوں نے ان سے ملاقات کے دوران بہترین جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمرے پر تمام لڑکیاں اچھی لگتی ہیں۔
پاکستان کا بولنگ یونٹ مکمل نظر نہیں آ رہا، کامران اکملسابق وکٹ کیپر بیٹر کامران اکمل نے کہا کہ موجودہ کنڈیشنز کے مطابق پاکستان کا بولنگ یونٹ مکمل نظر نہیں آ رہا۔ اگر ایسی کنڈیشنز میں اسپنرز کو موقع نہیں ملے گا تو پھر کہاں کھیلا جائے گا؟ انہوں نے کہا کہ 3 بولرز کے ساتھ میچ کھیلنا درست حکمت عملی نہیں ہے۔
انہوں نے افغانستان کے خلاف شکست اور یو اے ای کے خلاف میچ میں غیر سنجیدگی پر تنقید کی اور کہاکہ ایشیا کپ جیسے ایونٹ میں ایسی غلطیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو صرف چھوٹی نہیں بلکہ بڑی ٹیموں کے خلاف بھی فتوحات حاصل کرنا ہوں گی۔
کامران اکمل نے کہاکہ حارث کو فائدہ تب ہی ہوگا جب وہ ٹاپ تھری میں بیٹنگ کریں۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صائم ایوب کو اگلے چار سے پانچ سال بیٹنگ پر توجہ دینی چاہیے، اس کے بعد اگر ضرورت پڑے تو بولنگ کرائی جائے۔ حارث کا نمبر بھی بیٹنگ آرڈر میں تیسرے پر ہی ہونا چاہیے۔
بھارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کامران اکمل نے کہاکہ کاغذ پر بھارتی ٹیم بہت مضبوط نظر آ رہی ہے۔ ان کی خواہش ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف کامیابی حاصل کرے، تاہم اس کے لیے قومی ٹیم کو سخت محنت کرنا ہوگی۔
سب کو قومی ٹیم کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے، عمر گلسابق فاسٹ بولر عمر گل نے کہا کہ پاکستان ٹیم کو سب کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق بھارت کی ٹیم یقیناً مضبوط ہے لیکن ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ایک اچھی بیٹنگ یا بولنگ پرفارمنس سے بھی میچ جیتا جا سکتا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے جتنے بڑے ٹورنامنٹس جیتے ہیں، ان میں بولرز نے ہی کلیدی کردار ادا کیا ہے، اس لیے ڈیتھ اوورز میں بولرز کی کارکردگی بہتر بنانے پر خصوصی توجہ دینی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی کی نظر میں قومی کرکٹ ٹیم کی کپتانی کے لیے کون موزوں؟
عمر گل نے کہاکہ اس ایونٹ میں شائقین بابر اعظم اور محمد رضوان کے ساتھ ساتھ ویرات کوہلی اور روہت شرما کو بھی شدت سے یاد کریں گے۔ ان کے مطابق موجودہ ٹیم کو بھرپور انداز میں سپورٹ کیا جانا چاہیے، اگرچہ ٹرائی نیشن سیریز میں پاکستان کی کارکردگی زیادہ شاندار نہیں رہی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایشیا کپ بولنگ بیٹنگ سابق کرکٹرز عبدالرزاق عمر اکمل عمر گل قومی کرکٹ ٹیم وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایشیا کپ بولنگ بیٹنگ سابق کرکٹرز عبدالرزاق عمر اکمل عمر گل قومی کرکٹ ٹیم وی نیوز کامران اکمل کہ پاکستان نے کہا کہ انہوں نے نے کہاکہ کو سپورٹ کے مطابق ایشیا کپ کرکٹ ٹیم کے خلاف عمر گل ٹیم کو
پڑھیں:
ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔
سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔
یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔
سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے
اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔
انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش
ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔
اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے
سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔
سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید
سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔
ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟
انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔
سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی