ٹرمپ کی حماس کو آخری وارننگ، شرائط نہ مانی تو سنگین نتائج ہوں گے
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
واشنگٹن:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہوں نے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ شرائط کو تسلیم نہ کیا تو سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس موقع پر حماس کے لیے بات چیت کے دروازے بند ہو سکتے ہیں اور اس کے بعد کوئی نرم رویہ نہیں اپنایا جائے گا۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ ہر شخص یرغمالیوں کی رہائی اور جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے میری شرائط قبول کر لی ہیں، اب حماس کی باری ہے کہ وہ ان شرائط کو تسلیم کرے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/115164422928262033
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی آخری وارننگ ہے اور اگر حماس نے اس موقع کو ضائع کیا تو اس کے بعد کوئی نرم وارننگ نہیں دی جائے گی۔
ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی حماس کو سخت پیغامات دیے تھے اور گزشتہ روز کہا تھا کہ وہ حماس سے سنجیدہ بات چیت کر رہے ہیں۔ تاہم اب امریکی صدر نے دھمکی دی ہے کہ اگر حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے اقدامات نہ کیے، تو واشنگٹن سخت اقدامات اٹھانے سے گریز نہیں کرے گا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے لیے اسرائیلی یرغمالیوں کی مشروط رہائی پر آمادگی ظاہر کر دی تھی، مگر اسرائیل نے انکار کر دیا تھا۔
ٹرمپ کی اس دھمکی کے بعد بین الاقوامی سطح پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اگر حماس نے امریکی شرائط کو مسترد کیا تو کیا کارروائی کی جائے گی؟ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کا اثر پورے خطے میں پڑ سکتا ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی بڑھ چکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔