پاکستان سے امریکا کیلئے براہ راست پروازوں کے امکانات روشن ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
پاکستان سے امریکا کیلئے براہ راست پروازوں کے امکانات روشن ہوگئے WhatsAppFacebookTwitter 0 7 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست پروازوں کے امکانات روشن ہوگئے، کئی سال بعد امریکی سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی کی 5 رکنی ٹیم دبئی سے کراچی غیر ملکی ایئرلائن کی پرواز کے ذریعے پہنچی ہے، یہ ٹیم پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کا آڈٹ کرے گی۔
سی اے اے کے شعبہ لائسنسنگ، فلائٹ اسٹینڈرڈ، ایئروردنیس اور اسٹیٹ سیفٹی شعبوں کا آڈٹ ہوگا۔ امریکی ٹیم 12 ستمبر تک پاکستان سول ایوی ایشن کا آڈٹ مکمل کرے پاکستان سے واپس روانہ ہوگی۔واضح رہے کہ جعلی لائسنس پائلٹس اسکینڈل سامنے آنے کے بعد برطانیہ، یورپ اور امریکا میں پاکستانی ایئر لائنز کی پروازوں پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ اسکینڈل کے بعد امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی نے پاکستان سی اے اے کی ریٹنگ بھی کم کی تھی۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن اتھارٹی کے آڈٹ میں کامیابی پاکستانی ایئرلائنز کی امریکا میں براہ راست پروازوں کی بحالی ہو سکے گی، آڈٹ میں کامیابی پاکستانی سی اے اے کی ریٹنگ میں بھی بہتری آئے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی وزرا، حکومتی شخصیات سمیت پاکستانیوں کا موبائل سمز کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک وفاقی وزرا، حکومتی شخصیات سمیت پاکستانیوں کا موبائل سمز کا ڈیٹا انٹرنیٹ پر لیک پنجاب میں ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کریک ڈاون، 75ہزار سے زائد میٹرک ٹن گندم ضبط ملک میں پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک کروڑ 24 لاکھ ایکڑ سے متجاوز سیلاب کی تباہ کاریوں سے متعلق سیاسی اداکاروں کے فن وزٹ کی بجائے فیلڈ مارشل اپنی نگرانی میں ٹاسک فورس تشکیل دیں ، محمد... بھارت نے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ، پنجاب میں اونچے درجے سیلاب کا الرٹ جاری، جلال پور پیروالا میں صورتحال خراب، فوج... پاکستان کا فلسطینی عوام کے حقوق کیلئے ہر فورم پربھرپور آواز بلند کرنے کا اعادہ
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: براہ راست پروازوں پاکستان سے
پڑھیں:
جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔
اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔
پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویزامریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔
بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گیمجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں