اتحاد ایئرویز کی خصوصی رعایت: منتخب شہروں کے لیے کرایوں میں 30 فیصد تک کمی کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
اتحاد ایئرویز نے رواں سرما کے لیے محدود مدت کی خصوصی سیل کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ایشیا اور افریقہ کے کئی شہروں کے لیے فضائی کرایوں میں 30 فیصد تک رعایت دی جا رہی ہے۔
ایئرلائن کے مطابق مسافر اس آفر سے فائدہ اُٹھانے کے لیے اپنی ٹکٹیں 12 ستمبر تک بک کر سکتے ہیں۔ رعایتی کرایے ستمبر 2025 سے مارچ 2026 تک کے سفر کے لیے قابلِ استعمال ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے: اتحاد ایئرویز کا ہزاروں غیرملکی بھرتی کرنے کا اعلان
یاد رہے کہ اسی ماہ کے آغاز میں متحدہ عرب امارات کی قومی ایئرلائن نے 2025 کی پہلی ششماہی میں 1.
خصوصی آفر کے تحت 12 شہروں کے لیے کرایوں میں کمی کی گئی ہے۔ تھائی لینڈ کے کرابی اور چیانگ مائی، کمبوڈیا کے پھنوم پین، الجزائر کے دارالحکومت الجزائر، تیونس، ویتنام کا ہنوئی اور انڈونیشیا کا میدان سمیت کئی شہروں کے لیے کرایے کم کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: اتحاد ایئرویز نے پاکستان کے لیے نان اسٹاپ پروازوں کی تعداد مزید بڑھا دی
ایئرلائن کے مطابق ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا اور روس کے شہر قازان کے لیے ٹکٹیں 1,465 درہم سے شروع ہوں گی، جبکہ ہانگ کانگ کے لیے کرایہ 1,935 درہم رکھا گیا ہے۔
مزید یہ کہ پاکستان کے شہر پشاور کے لیے پروازیں صرف 895 درہم سے شروع ہوں گی، جبکہ تائی پے کے لیے ٹکٹوں کی قیمت 1,985 درہم سے ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اتحاد ایئرویز رعایت کرایہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اتحاد ایئرویز رعایت کرایہ اتحاد ایئرویز شہروں کے لیے کا اعلان
پڑھیں:
ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
واشنگٹن:امریکی سینیٹ میں ایران سے متعلق پالیسی پر اس وقت گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی جب ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو سخت سوالات کی زد میں لے لیا۔
سینیٹ اجلاس کے دوران کوری بُکر نے حکومت کی ایران پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آخر امریکا کیوں ایران کے ساتھ کسی معاہدے کی طرف دوبارہ بڑھ رہا ہے اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ماضی میں اسی ڈیل کو خود امریکا ناقابل قبول قرار دے چکا تھا۔
سینیٹر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ کیا واشنگٹن اب اس معاہدے کے لیے دباؤ کا شکار ہو رہا ہے جسے پہلے مسترد کیا جا چکا تھا۔
بُکر نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے متعلق اقدامات اور خطے کی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اس کے باوجود سفارتی راستہ کس بنیاد پر اختیار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیںایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
جواب میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا ایران سے کسی بھیک کی پوزیشن میں نہیں بلکہ یہ ایک پیچیدہ سفارتی اور تکنیکی عمل ہے۔
ان کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات جذباتی نہیں بلکہ انتہائی تکنیکی نوعیت کے ہیں، جو چند دنوں میں مکمل نہیں ہو سکتے۔
روبیو نے کہا کہ ماہرین کی سطح پر بات چیت ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہ سکتی ہے تاکہ ایک قابلِ عمل حل نکالا جا سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران اب ان بعض امور پر بات کرنے پر آمادہ ہوا ہے جن سے پہلے وہ انکار کرتا رہا ہے، خصوصاً افزودہ یورینیم کے معاملے پر پیش رفت کی ضرورت ہے۔