کالا باغ ڈیم سے متعلق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان پارٹی پالیسی نہیں، عاطف خان
اشاعت کی تاریخ: 8th, September 2025 GMT
پی ٹی آئی رہنما اور رکن قومی اسمبلی عاطف خان نے کہاہے کہ کالا باغ ڈیم سے متعلق وزیراعلی خیبرپختونخوا کا بیان پارٹی پالیسی نہیں، کالا باغ ڈیم کے قیام کی حمایت علی امین گنڈاپور کا ذاتی بیان ہوسکتا ہے پارٹی پالیسی نہیں ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئےعاطف خان نے کہاکہ کالا باغ ڈیم منصوبہ کو خیبرپختوا اسمبلی ، عوام اور پی ٹی آئی کی حمایت حاصل نہیں ، کالا باغ ڈیم سے متعلق سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ کا بیان پارٹی پالیسی ہے، پی ٹی آئی کی پارٹی پالیسی ہے صوبوں کے اتفاق رائے کے بغیر کالا باغ ڈیم نہیں بننا چاہے۔
انہوں نے کہاکہ کالا باغ ڈیم پر قومی اتفاق رائے نہیں ہے اسکے بغیر ڈیم بننا ممکن بھی نہیں ہے، کالا باغ ڈیم پر تنازع ہے اسے چھوڑ کر دوسرے بڑے ڈیم بنائے جائیں، حکومت پل اور سڑکیں بنانے سمیت عارضی کاموں میں مصروف ہے، جن بڑے آبی منصوبوں پر تنازع نہیں وہ بنائے جائیں، سیاسی حکومتیں بڑے منصوبوں کے بجائے قلیل مدتی منصوبوں پر توجہ دیتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پارٹی پالیسی کالا باغ ڈیم پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔