سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور صوبائی حکومت ہر وقت عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ 

اپنے ایک بیان میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر ریسکیو ٹیمیں دن رات متاثرہ علاقوں میں سرگرم عمل ہیں اور متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت سندھ کی ہدایات پر ریسکیو 1122 نے نہ صرف انسانی جانوں کو بچایا بلکہ مویشیوں، خوراک اور گھریلو سامان کو بھی محفوظ بنایا تاکہ متاثرین کو زیادہ نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت ہے اور حکومت سندھ ہر مشکل گھڑی میں عوام کے ساتھ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیلابی ریلے کی سب سے خطرناک صورتحال اس وقت پنجند اور تریموں کے مقامات پر ہے جبکہ گڈو کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے اور گڈو، سکھر اور کوٹری میں حالات قابو میں ہیں۔

ان کے مطابق پنجند میں پانی کی آمد و اخراج دونوں 524,762 کیوسک ہیں جو انتہائی بلند سطح ہے جبکہ تریموں پر یہ سطح 531,993 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 425,813 اور اخراج 416,763 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 352,010 اور اخراج 329,310 کیوسک جبکہ کوٹری بیراج پر آمد 235,243 اور اخراج 231,763 کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔

سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے  کہا کہ حکومت سندھ مسلسل پانی کی سطح پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔ حالیہ سیلابی صورتحال کے دوران ریسکیو 1122 سندھ نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں متاثرہ خاندانوں کو سہارا دیا۔ ریسکیو ٹیمیں نہ صرف انسانی جانوں کو محفوظ بنا رہی ہیں بلکہ مویشیوں اور قیمتی سامان کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 31 اگست سے 7 ستمبر تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشنز کے دوران مختلف اضلاع سے مجموعی طور پر 380 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ سب سے زیادہ سرگرمیاں ضلع سکھر میں ہوئیں جہاں امام بخش جتوئی، بشیرا آباد اور حاجی فقیر محمد جتوئی سمیت مختلف دیہات سے 69 افراد کو نکالا گیا۔ اسی طرح شہید بینظیر آباد سے 147 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ 30 مویشی، 40 سولر پلیٹس اور گندم کی بوریاں بھی بچائی گئیں۔ نوشہرو فیروز میں چھ روز کے دوران 147 افراد کو ریسکیو کیا گیا اور ان کا گھریلو سامان اور دیگر اشیاء بھی محفوظ طور پر منتقل کی گئیں۔ خیرپور میرس میں گاؤں گل حسن سے 5 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ اور صوبائی حکومت کے تعاون سے سیلاب متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی گئی ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: محفوظ مقامات پر منتقل افراد کو محفوظ پر منتقل کیا پر منتقل کی حکومت سندھ نے کہا کہ انہوں نے کیا گیا سندھ کی ہے اور

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سندھ حکومت پولیس فورس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پرعزم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن