Express News:
2026-06-03@07:02:10 GMT

نیپال کے مستعفی وزیراعظم ملک سے فرار؛ ویڈیو وائرل

اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT

ملک میں کرپشن اور سوشل میڈیا پر پابندیوں کے خلاف ملک گیر ہلاکت خیز احتجاج کے نتیجے میں مستعفی ہونے والے نیپال کے وزیراعظم اب خاموشی سے بیرون ملک روانہ ہوگئے۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم شرما ایک ہیلی کاپٹر میں سوار ہو رہے ہیں جو کہ ممکنہ طور پر ملٹری ہیلی کاپٹر ہے۔

سرکاری طور پر مستعفی وزیراعظم کے ملک سے فرار ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ان کی منزل دبئی ہے۔

مقامی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ مستعفی وزیراعظم کی درخواست پر فوج نے انھیں بیرون ملک جانے کا محفوظ راستہ فراہم کیا۔

Nepal PM Flees in Chopper, Likely Heading to Dubai Amid Gen-Z Protests #nepalprotest #protest #genz #genzprotest #kathmandu #KathmanduProtest #SocialMediaBan #nepalnewsupdate #nepalnewstoday #nepalnews #NepalBreakingNews #nepalupdate #nepal #NepalGenZProtest #KPSharmaOli pic.

twitter.com/eKZ3ucZ448

— Northeast Live (@NELiveTV) September 9, 2025

علاوہ ازیں ملٹری ہیلی کاپٹرز اور گاڑیوں میں ہی دیگر وزرا کو بیرکوں میں منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ انھیں عوام کے غیظ و غضب سے بچایا جا سکا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز عوام نے احتجاج کے دوران پارلیمنٹ، عدالت اور دیگر سرکاری عمارتوں کو آگ لگادی تھی۔

مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس، حکمراں جماعت کے دفاتر اور وزرا کے گھروں پر دھاوا بولا اور توڑ پھوڑ کی تھی۔

ادھر ملک کے صدر رام چندر نے نئے وزیراعظم کے چناؤ کے لیے مشاورت شروع کردی جب کہ سوشل پر عائد پابندیاں بھی اُٹھالی گئیں۔

واضح رہے کہ نیپال میں دو روز سے جاری عوامی مظاہروں میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21 ہوگئی جب کہ 250 سے زائد زخمی ہیں۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت