بھارت نے دریائے ستلج میں پھر پانی چھوڑ دیا، اگلے 3 دن ملتان کے لیے انتہائی اہم قرار
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا ہے جس کے بعد پنجاب کے علاقوں میں مزید سیلاب متوقع ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمیشن نے بھارت کی طرف سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑنے کی اطلاع پاکستانی حکام کو دی ہے۔
اطلاع ملنے پر وزارتِ آبی وسائل نے سیلابی الرٹ جاری کردیا ہے۔ دریائے ستلج میں ہریکے زیریں اور فیروزپور زیریں میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
یہ بھی پڑھیے: دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ، سیلابی خطرہ بڑھ گیا
دوسری طرف ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ اگلے 3 دن ملتان کے لیے انتہائی اہم ہیں، جلال پور پیروالا اب تک سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں دریائے راوی اور ستلج کا پانی جمع ہوچکا ہے، آج بند ٹوٹنے سے علاقہ مزید متاثر ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ متاثرین کے لیے ریلیف کیمپ بنائے گئے ہیں اور متاثرہ علاقوں سے لوگوں کے انخلا کی کوششیں ہورہی ہیں، لیکن لوگ اپنے گھروں سے نکلنے سے گریزاں ہیں جو ہمارے لیے چیلنج ثابت ہوا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا تھا کہ علاقے میں کافی تعداد میں کشتیاں موجود ہیں، پچھلی رات راولپنڈی اور گجرانوالہ ڈویژن سے وسائل لاکر جلال پور پیروالا کو بچانے کے لیے مختص کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر جلالپور پیروالا میں سیلاب متاثرین کی محفوظ مقامات پر منتقلی مکمل
انہوں نے کہا کہ چناب دریا میں پانی چھوڑتے ہوئے انڈیا نے پیشگی اطلاع نہیں دی، صرف ستلج میں پانی چھوڑنے سے قبل بتا دیا گیا تاہم اب انڈیا سے پانی نہیں آرہا۔
پی ڈی ایم اے کے سربراہ نے بتایا کہ لاہور، ناروال، شیخوپورہ، گجرانوالہ اور ننکانہ میں پانی کا بہاؤ کم ہوا ہے اور وہاں ہم بحالی کے کاموں کا آغاز کررہے ہیں، اگلے 3 دن جنوبی پنجاب خاص طور پر ملتان کے لیے اہم ہیں۔
انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ سے تعاون کریں اور انخلا یقینی بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
دریائے راوی دریائے ستلج سیلاب ملتان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دریائے راوی دریائے ستلج سیلاب ملتان دریائے ستلج میں ستلج میں پانی کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔