گورا بادشاہ چلا گیا مگر نظام وہی چلتا رہا، سویا تھا جب عمران خان نے اسپیکر نامزد کیا، بابر سلیم سواتی
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے کہا ہے کہ کہنے کو تو ہم آزاد ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ گورا بادشاہ تو چلا گیا مگر نظام وہی چلتا رہا۔
پشاور اسمبلی ہال میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بابر سلیم سواتی نے انکشاف کیاکہ وہ سوئے ہوئے تھے جب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے انہیں اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی احتساب کمیٹی نے اسپیکر بابر سلیم سواتی کو کرپشن الزامات سے بری کردیا
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی کا کہنا تھا کہ دانستہ طور پر کسی قسم کی کوتاہی نہیں کی، آج پارلیمانی تاریخ کا ایک اہم دن ہے، عمران خان قانون کی بالادستی کی بات کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 1974 میں گورنر کے نوٹیفکیشن کے تحت بننے والے رولز آج تک چل رہے تھے، لیکن اب ہم نے انہیں عوام کی خواہشات کے مطابق ڈھال دیا ہے۔
’ان کے مطابق پہلے اسمبلی میں انگریزی، اردو اور پشتو زبانوں میں اظہار خیال کی اجازت تھی، مگر اب اراکین ہندکو اور سرائیکی میں بھی بات کر سکیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ ہم آسٹریلیا اور دیگر کے پارلیمانی نظام کو دیکھ کر بہتری لائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسپیکر بابر سلیم کو کرپشن الزامات میں کلین چٹ دینے پر پی ٹی آئی کی احتساب کمیٹی میں اختلافات
اپنے خطاب میں اسپیکر نے یہ بھی کہاکہ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے ساتھ کبھی کبھی تلخی بھی ہوئی لیکن اصلاحات کے معاملے میں انہوں نے بھرپور تعاون کیا۔
بابر سلیم سواتی کے مطابق خیبر پختونخوا کا موسم ایسا ہے کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کب کلاؤڈ برسٹ ہوجائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی عمران خان گورا بادشاہ نامزدگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی گورا بادشاہ نامزدگی وی نیوز بابر سلیم سواتی
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔