وزارت قانون اور ایف پی سی سی آئی میں ثالثی و مصالحتی نظام کو فروغ دینے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
اشاعت کی تاریخ: 10th, September 2025 GMT
وزارت قانون اور ایف پی سی سی آئی میں ثالثی و مصالحتی نظام کو فروغ دینے کیلئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط WhatsAppFacebookTwitter 0 10 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز )وزارتِ قانون و انصاف اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے درمیان انٹرنیشنل ثالثی و مصالحتی کونسل میں تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے گئے۔ تقریب میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
ایم او یو پر صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ اور پراجیکٹ ڈائریکٹر آئی ایم اے سی عائشہ رسول نے دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت وزارت قانون اور ایف پی سی سی آئی کاروباری برادری کے باہمی تنازعات کے حل کے لیے مصالحتی اور ثالثی کونسل کے نظام کو فروغ دینے کے لیے تعاون کریں گے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ یہ ایم او یو متبادل نظامِ انصاف کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوگا اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف پی سی سی آئی اور وزارت قانون معیشت کی ترقی کے لیے تنازعات کے حل کے اس جدید طریقے کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مضبوط معیشت ہی ملک کے معاشی اور دفاعی استحکام کی ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کاروباری طبقہ عدالتوں کے چکر کاٹتا رہے گا تو معیشت کے لیے درکار زرمبادلہ کیسے کما پائے گا۔
وزیر قانون نے بتایا کہ گزشتہ سال انٹرنیشنل میڈیشن اینڈ آربیٹریشن کونسل قائم کی گئی تھی اور اب تک 600 گھریلو ثالثی اور مصالحتی کونسلز کو سرٹیفائی کیا جا چکا ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ملک کی عدالتوں میں اس وقت 24 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں، لہذا دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی تنازعات کے حل کے متبادل نظام کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایشیا کپ، بھارت نے یکطرفہ مقابلے میں یو اے ای کو 9 وکٹوں سے شکست دیدی ایشیا کپ، بھارت نے یکطرفہ مقابلے میں یو اے ای کو 9 وکٹوں سے شکست دیدی ملتان، اوچ شریف روڈ پر شگاف ڈالنے کا فیصلہ، پانی بستی لانگ،بستی کنہوں اور بہادر پور کی جانب موڑاجائیگا سفری پابندیوں کے شکار پاکستانیوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی توہین عدالت کی درخواست پر چیئرمین نیب 15ستمبر کو ذاتی حیثیت میں لاہور ہائیکورٹ طلب سپریم کورٹ نے عدالتی فیسوں اور سیکیورٹیز میں اضافہ معطل کردیا، نوٹیفکیشن جاری حسان نیازی نے فوجی تحویل، عدالتی کارروائی، کورٹ مارشل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایف پی سی سی آئی نظام کو فروغ کو فروغ دینے
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔