ریاض کرسٹل کرکٹ کلب کی 10 سالہ سالگرہ اور کٹ تقسیم کی تقریب
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
ریاض کرکٹ لیگ (آر سی ایل) کی نمایاں ٹیم ریاض کرسٹل کرکٹ کلب نے اپنی 10 سالہ سالگرہ اور کٹ تقسیم کی شاندار تقریب کا انعقاد کیا۔ یہ تقریب کلب کے اونر محمد عمر خطاب اور سید وقاص طیب کی میزبانی میں منعقد ہوئی، جس میں ٹیم ممبران کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمیونٹی کی اہم شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب میں کلب کے عہدیداران ٹیم مینجر حمزہ عباس، ڈسپلن انچارج عمران خان اور میڈیا و مارکٹنگ مینجر کامران اشرف بھی موجود تھے۔ خصوصی مہمانوں میں چوہدری ندیم اکرم بگا، عمران اعوان اور حسیب گوندل شامل تھے۔
یہ بھی پڑھیے ریاض میں جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کا روڈ شو، پاکستانی سفارتخانے میں انعقاد
اس موقع پر کلب کے کپتان سرحد باچا کے ہمراہ نمایاں کھلاڑیوں محمد عرفان، سلمان زیب، اکبر زیب، مدثر عباس، محمد منیر گجر، محمد نواز، سلیم خان، نوید احمد، ضمیر اور شہاب خان کو کٹس تقسیم کی گئیں۔
شرکاء نے کلب کی 10 سالہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے ٹیم کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
کلب کے اونر محمد عمر خطاب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ریاض کرسٹل کرکٹ کلب نے ایک دہائی میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ ٹیم ورک اور کمیونٹی کے تعاون کا نتیجہ ہیں۔
ٹیم اونر سید وقاص طیب نے کہا کہ مقصد نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنا اور کرکٹ کے ذریعے کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض کا پاکستان نیشنل اسکول کیسے دونوں ممالک کو قریب لا رہا ہے؟
ٹیم مینجر حمزہ عباس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کلب آئندہ بھی اپنی شاندار روایات کو برقرار رکھے گا اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ایسے پروگرام جاری رکھے گا۔
تقریب کا اختتام کھلاڑیوں اور کمیونٹی ممبران کے باہمی تبادلۂ خیال اور مستقبل میں مزید بہتر کارکردگی کے عزم کے ساتھ ہوا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ریاض کرسٹل کرکٹ کلب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کلب کے
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔