بھارتی خاتون کرکٹر جمیما روڈریگز نے بھارتی کرکٹر ویرات کوہلی اور انوشکا شرما سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سنایا ہے۔

ان کے مطابق وہ اور اس کی ساتھی کھلاڑی سمرتی مندھانا نے ویرات کوہلی سے بیٹنگ کے حوالے سے مشورہ لینے کے لیے ملاقات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ویرات کوہلی فٹنس کا خیال کیسے رکھتے ہیں، انوشکا شرما نے راز سے پردہ اٹھا دیا

یہ ملاقات نیوزی لینڈ کے ایک کیفے میں ہوئی جہاں انوشکا شرما بھی موجود تھیں۔

ابتدائی آدھے گھنٹے تک بات چیت صرف کرکٹ پر رہی، بعد میں گفتگو زندگی اور دیگر موضوعات پر چل نکلی۔

جمیما کے بقول یہ ملاقات ایسے لگ رہی تھی جیسے پرانے دوست دوبارہ ملے ہوں۔ باتوں کا سلسلہ تقریباً 4 گھنٹے تک جاری رہا۔

یہ بھی پڑھیں:ویرات کوہلی اور انوشکا شرما لندن کیوں منتقل ہونا چاہتے ہیں؟

آخرکار کیفے کے عملے نے لمبی نشست کی وجہ سے سب کو وہاں سے جانے کا کہا۔

جمیما نے بتایا کہ ویرات کوہلی نے اس موقع پر ان سے کہا تھا کہ ’تم دونوں خواتین کرکٹ کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہو‘۔

خیال رہے کہ ویرات کوہلی اور انوشکا شرما حالیہ برسوں میں لندن منتقل ہو چکے ہیں تاکہ میڈیا کی توجہ سے دور پرسکون زندگی گزار سکیں۔

یہ جوڑا اپنے دونوں بچوں، وامیکا اور اکائے کے ساتھ اکثر شہر کی سڑکوں پر دیکھا جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انوشکا شرما جمیما روڈریگز کرکٹ نویزی لینڈ کیفے ویرات کوہلی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انوشکا شرما جمیما روڈریگز کرکٹ ویرات کوہلی ویرات کوہلی اور انوشکا شرما

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • ایران سے ڈیل کے نام پر بھیک کیوں مانگی جا رہی ہے؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کے روبیو سے سخت سوالات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟