کراچی: پانی کےبہاؤ سے کورنگی کراسنگ ندی اور کازوے تیسرے روزبھی بند، اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
کراچی کی ملیر ندی میں طُغیانی اور پانی کے بہاؤ سے کورنگی کراسنگ ندی اور کاز وے تیسرے روز بھی ٹریفک کے لئے بند ہے جب کہ بروکس چورنگی، جام صادق پُل، قیوم آباد چورنگی اور اطراف کی سڑکوں پر شدید ٹریفک جام ہے۔
رپورٹ کے مطابق قیوم آباد چورنگی، جام صادق پل، ایکپسریس وے، بروکس چورنگی، ڈیفنس سگنل پر بدترین ٹریفک جام ہے، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، منٹوں کا سفر گھنٹوں میں تبدیل ہوگیا جب کہ ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کا اپنی منزل پرپہنچنا محال ہو گیا۔
ٹریفک پولیس نے کہا کہ کورنگی کراسنگ ندی او ای بی ایم کازوے ندی ٹریفک کے لیے بند ہونے سے ٹریفک کا دباؤ قیوم آباد چورنگی اورجام صادق پل پر پڑنے سے صورتحال خراب ہوئی، ٹریفک پولیس موقع پرموجود ہے اور صورتحال کوکنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
قیوم آباد کے پی ٹی انٹر چینچ فلائی اوور پر بھی بدترین ٹریفک جام ہے، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں جب کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر میں ٹریفک جام کا نوٹس لیتے ہوئے قیوم آباد، کورنگی اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک مسائل فوری حل کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کورنگی کراسنگ اور ای بی ایم کازوے بند ہونے پر صورتحال کی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعلیٰ سندھ کو ڈی آئی جی ٹریفک پولیس کراچی پیر محمد شاہ نے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ برساتی پانی کے تیز بہاؤ کے باعث کورنگی کراسنگ اور ای بی ایم کازوے ٹریفک کے لیے بند ہیں، کورنگی کراسنگ اور ای بی ایم کازوے بند ہونے سے قیوم آباد چورنگی اور جام صادق پل پر ٹریفک کا شدید دباؤ ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی دی گئی کہ ٹریفک پولیس موقع پر موجود ہے، صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مراد علی نے ہدایت دی کہ شہریوں کو متبادل راستے فراہم کیے جائیں، رہنمائی کے لئے اضافی نفری تعینات کی جائے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کمشنر کراچی اور ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی کو ٹریفک پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بی ایم کازوے کورنگی کراسنگ ٹریفک پولیس باد چورنگی قیوم ا باد ٹریفک جام اور ای
پڑھیں:
کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
فائل فوٹوکراچی میں جیکسن کے علاقے میں بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ساؤتھ اسد رضا کے مطابق 6 سالہ بچی کی لاش آج دوپہر کو جیکسن کے علاقے سے ملی تھی، ملزم کی گرفتاری کے لیے جیسے ہی پولیس پہنچی، اُس نے پولیس پر فائرنگ کردی۔
ڈی آئی جی کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ملزم ہلاک ہوگیا، جس کے پاس سے اسلحہ برآمد ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کل دوپہر کو لاپتا ہوئی تھی، آج اس کی لاش ملی، ابتدائی پوسٹ مارٹم میں بھی بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔