پاکستان سے برطانیہ کیلیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
لاہور:
پاکستان سے برطانیہ کے لیے براہ راست پروازیں شروع کرنے کا معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا ۔
ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی برطانیہ سے تھرڈ کنٹری آپریٹر TCOکی بروقت منظور ی نہیں لے سکی ۔ پی آئی اے ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ٹی سی او کی منظوری ملنے تک پروازیں چلائی نہیں جا سکتیں۔
برطانیہ کی جانب سےپاکستانی ایئرلائنزسے پابندیاں ختم ہوئےایک ماہ سےزائد کا وقت ہو گیا ۔ پی آئی اے ذرائع کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی تھرڈکنٹری آپریٹر TCO کے بروقت حصول میں ناکام رہی ہے۔ ٹی سی او کا نہ ملنا برطانیہ کے لیے براہ راست پروازوں میں بڑی رکاوٹ ہے۔ برطانیہ کی سفیر جین میریٹ بھی پرواز یں شروع ہونے کے انتظار میں ہیں۔
برطانیہ سے پابندی ہٹائے جانے کے بعد اسلام آباد سے کراچی کے لیے برطانوی سفیر جین میریٹ نے پی آئی اے سے سفر کیا تھا ۔ سفر کے دوران خواہش کا اظہار کیا تھا کہ پروازیں شروع ہوتے ہی پی آئی اے سے مانچسٹر جائیں گی، تاہم برطانوی سفیر جین میریٹ کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے اور نجی ایئرلائن ائیر بلیو نے برطانیہ کے لیے اگست سے براہ راست پروازیں شروع کرنی تھی۔ پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تھرڈ کنٹری آپریٹر کا اجازت نامہ حاصل کرنا سول ایوی ایشن اتھارٹی کی ذمے داری ہے۔
دوسری جانب ترجمان کا کہنا ہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کا دائرہ اختیار پابندیاں ہٹانے تک تھا۔ برطانیہ کے بعد امریک میں پروازوں کی بحالی کے اقدامات کر رہے ہیں ۔ امریکا سے سیفٹی کا 5 رکنی وفد بھی آیا ہوا ہے، جسے تمام امور سے آگاہ کردیا ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان شاہد قادر نے کہا کہ ڈی جی سول ایوی ایشن اتھارٹی نادر شفیع ڈار خود ان تمام معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔ جلد امریکا کے لیے بھی پروازوں کی خوشخبری عوام کو ملے گی۔
ترجمان پی آئی اے کے مطابق فی الحال پاکستانی ائیر لائنزکو برطانیہ سے باضابطہ طور پر ٹی سی او منظوری نہیں ملی۔ باضابطہ منظوری ملتے ہی برطانیہ کے لیے براہ راست فلائٹس شیڈول جاری کردیا جائے گا۔ ٹی سی او منظوری کا انتظار کررہے ہیں لیکن ہم نے اپنی پلاننگ مکمل کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سول ایوی ایشن اتھارٹی برطانیہ کے لیے لیے براہ راست پروازیں شروع پی آئی اے کے مطابق ٹی سی او
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔