پاکستان اور عراق کی فضائیہ نے آپریشنل ہم آہنگی مستحکم کرنے کے لیے مشترکہ مشقوں اور تربیتی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق عراق کی فضائیہ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اسٹاف پائلٹ موہنند غالب محمد رعدی الاسدی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹر اسلام آباد کا دورہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: عراقی فضائیہ کے کمانڈر کی جنرل ساحر شمشاد سے ملاقات، دفاعی و سیکیورٹی تعلقات کو وسعت دینے کا عزم

پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے معزز مہمان کو خوش آمدید کہا، وفد کی آمد پر پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خاص طور پر مشترکہ تربیت، صلاحیتوں میں اضافہ اور ایوی ایشن انڈسٹری میں پیشرفت پر زور دیا گیا۔

ایئرچیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے اس موقع پر پاکستان اور عراق کے درمیان مذہبی و تاریخی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہی رشتے دونوں ممالک کی فضائیہ کے دیرینہ تعلقات کی بنیاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایئر چیف سے کمانڈر یو اے ای نیول فورسز کی ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

انہوں نے عراقی فضائیہ کو ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پاک فضائیہ تربیت اور استعداد کار بڑھانے میں عراقی فضائیہ کی بھرپور معاونت جاری رکھے گی۔

دونوں فضائیہ کے سربراہان نے مشترکہ مشقوں اور تربیتی اقدامات پر اتفاق کیا تاکہ آپریشنل ہم آہنگی مزید مستحکم ہو سکے۔

عراقی فضائیہ کے کمانڈر نے شاندار استقبال اور مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے پاک فضائیہ کی وژنری قیادت کو سراہا اور اسے خطے کی جدید، پیشہ ورانہ اور ٹیکنالوجی سے لیس فضائی قوت قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں: بحرین ڈیفنس فورس کے چیف آف اسٹاف کا ایئر ہیڈکوارٹر اسلام آباد کا دورہ، دونوں ممالک کا دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق

انہوں نے عراق میں فضائی تربیتی نظام کو ازسرِ نو ترتیب دینے کے عزم کا اظہار کیا اور اس ضمن میں پاک فضائیہ سے مدد کی خواہش ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ عراقی فضائیہ پاک فضائیہ کے پائلٹس کی مہارت اور تجربے سے براہِ راست استفادہ کرنا چاہتی ہے اور ایک جدید تربیتی ڈھانچہ قائم کرنے میں پاک فضائیہ کی رہنمائی کو انتہائی قیمتی سمجھتی ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل موہنند غالب الاسدی نے قومی ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کا بھی دورہ کیا اور پاک فضائیہ کے تخلیقی اقدامات اور ملکی استعداد سے گہرا تاثر لیا۔

انہوں نے کہا کہ عراق بھی ایسا ہی ایک نظام قائم کرنے کا خواہاں ہے جس میں تعلیمی ادارے، صنعت اور عسکری ضروریات ایک چھتری تلے منسلک ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ترکیہ وزیر دفاع کا ایئر ہیڈکوارٹرز کا دورہ، دفاعی تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق

بعد ازاں وفد نے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر اور پی اے ایف سائبر کمانڈ کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا گیا۔

عراقی فضائیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، تعاون کے فروغ اور باہمی روابط کے استحکام کا مظہر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ایئرہیڈ کوارٹر پاکستان عراق فضائیہ مشترکہ مشقیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایئرہیڈ کوارٹر پاکستان فضائیہ مشترکہ مشقیں پاک فضائیہ کے عراقی فضائیہ یہ بھی پڑھیں دونوں ممالک فضائیہ کی کی فضائیہ انہوں نے پر اتفاق

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف