کن افراد میں اپنی جان لینے کا رجحان زیادہ ہے، بیانیہ بدلنے کی ضرورت کیوں؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خودکشی کے موضوع پر منفی اور نقصان دہ تصورات کو ختم کرنے کے لیے بیانیہ بدلنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بدنامی کم ہو، ہمدردی بڑھائی جائے اور مسئلے سے بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں ہر 100 میں سے ایک موت خودکشی سے ہوتی ہے، ڈبلیو ایچ او
ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریسس نے خودکشی کی روک تھام کے عالمی دن (10 ستمبر) کے موقعے پر کہا کہ ہر سال تقریباً 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ المیہ خاندانوں، دوستوں اور پورے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خودکشی صرف امیر ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ سنہ 2021 میں دنیا بھر میں خودکشی کے تقریباً 3 چوتھائی واقعات کم اور درمیانے آمدنی والے ممالک میں پیش آئے۔ اس سال خودکشی 15 سے 29 سال کی عمر کے افراد میں اموات کا تیسرا بڑا سبب تھی۔
مزید پڑھیے: نو عمر لڑکے کی خودکشی: اوپن اے آئی کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی پر والدین کا کنٹرول متعارف
رپورٹ کے مطابق افریقہ میں خودکشی کی شرح 11.
اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں ذہنی مسائل، خاص طور پر ڈپریشن اور شراب نوشی خودکشی کی کوششوں کے بڑے اسباب ہیں۔ تاہم اکثر خودکشی کی کوششیں جذباتی دباؤ، مالی پریشانیوں، خراب تعلقات یا شدید بیماری کے باعث ہوتی ہیں۔ تنازعات، قدرتی آفات، تشدد، بدسلوکی یا تنہائی کے احساسات بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
کمزور طبقات جیسے پناہ گزین، تارکین وطن، ہم جنس پرست، ٹرانس جینڈر افراد اور قیدیوں میں خودکشی کی شرح زیادہ ہوتی ہے کیونکہ وہ اکثر امتیازی سلوک کا شکار ہوتے ہیں۔
ذہنی صحت پر سرمایہ کاری کی ضرورتڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ خودکشی کی روک تھام کے لیے ایسے ماحول کی ضرورت ہے جہاں لوگ بغیر خوف اپنی بات کر سکیں اور مدد حاصل کر سکیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب ہے کہ حکومتیں ذہنی صحت کی دیکھ بھال کو اولین ترجیح دیں اور اس پر مناسب وسائل فراہم کریں۔
مزید پڑھیں: میٹا نے اے آئی چیٹ بوٹس پر بچوں کیساتھ فلرٹ اور خودکشی سے متعلق گفتگو پر پابندی لگا دی
ڈبلیو ایچ او کی حالیہ رپورٹ کے مطاب عالمی سطح پر ذہنی صحت کے لیے بجٹ کا صرف 2 فیصد حصہ مختص کیا جاتا ہے جبکہ امیر اور غریب ممالک کے درمیان اس سرمایہ کاری میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امیر ممالک ایک فرد پر 65 ڈالر تک خرچ کرتے ہیں جب کہ غریب ممالک میں یہ رقم محض 0.04 ڈالر ہے۔
خودکشی کی روک تھام کے اقداماتڈبلیو ایچ او نے خودکشی کے واقعات کو کم کرنے کے لیے چند اہم اقدامات تجویز کیے ہیں جن میں زہریلے کیمیکل، آتشیں اسلحہ اور مخصوص ادویات جیسی خودکشی کے ذرائع تک رسائی محدود کرنا، خودکشی کی خبروں کی ذمہ دارانہ رپورٹنگ کے لیے میڈیا کے ساتھ تعاونم نوجوانوں میں سماجی اور جذباتی مہارتوں کو فروغ دینا اور خودکشی کے خطرے سے متاثرہ افراد کی فوری شناخت، تشخیص اور علاج شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھارت میں طلبہ کی خودکشیوں میں اضافہ: اصل وجہ کیا ہے؟
ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر یہ اقدامات مؤثر طریقے سے نافذ کیے جائیں تو خودکشی کے واقعات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خودکشی خودکشی بیانیہ خودکشی پر راغب گروپس خودکشی کی وجوہات ڈبلیو ایچ او
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خودکشی بیانیہ خودکشی پر راغب گروپس خودکشی کی وجوہات ڈبلیو ایچ او ڈبلیو ایچ او خودکشی کی خودکشی کے کی ضرورت کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
پاکستان اور اٹلی نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بناتے ہوئے سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ایک انتہائی اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب اور اہم ملاقاتاٹلی کے دارلحکومت روم میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران اٹلی میں تعینات پاکستانی سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا نے اس اہم معاہدے پر دستخط کیے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع
دستخطی تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ایک تفصیلی دو طرفہ ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی صورتحال اور بین الاقوامی فورمز، خصوصاً اقوام متحدہ اور یورپی یونین میں تعاون کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
باہمی اعتماد اور سفارتی وفود کا تبادلہسرکاری بیان کے مطابق دونوں فریقین نے وسعت اور مثبت سمت پر گامزن پاک، اٹلی تعلقات پراطمینان کا اظہار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیا معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان موجود گہرے باہمی اعتماد، لازوال دوستی اور قریبی تعاون کی واضح علامت ہے۔ اس اقدام سے سرکاری اور سفارتی وفود کے تبادلوں میں حائل رکاوٹیں دور ہوں گی اور عوامی و حکومتی سطح پر روابط کو مزید فروغ ملے گا۔
پاک، اٹلی تعلقات کا تاریخی فریم ورکپاکستان اور اٹلی کے درمیان طویل عرصے سے مختلف شعبوں میں قریبی تعاون جاری ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے مابین 15 سرکاری معاہدے نافذ العمل ہیں، جو سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی تعلیم اور انسدادِ منشیات جیسے شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) بھی فعال ہیں۔
مزید پڑھیں:پاکستانی طالب علم اٹلی میں مفت اسکالرشپ اور لاکھوں روپے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟
دو طرفہ تعلقات کے اہم فریم ورک میں 2009 کا دفاعی تعاون معاہدہ، 2013 میں قائم کیا گیا اسٹریٹجک انگیجمنٹ پلان اور 2005 میں تشکیل دی گئی مشترکہ اقتصادی کمیشن شامل ہیں۔
اس سے قبل 1997 کا سرمایہ کاری تحفظ معاہدہ، 1983 کا دوہری شہریت کا معاہدہ اور 1972 کا حوالگیِ مجرمان معاہدہ بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے ’لیبر مائیگریشن‘ معاہدہ اور ملازمتیںرپورٹ کے مطابق 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں دونوں ممالک کے درمیان ’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘ کی ایک اہم ترین یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔ یہ کسی بھی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باضابطہ لیبر معاہدہ تھا، جس کے تحت پاکستانی ہنر مندوں کے لیے اٹلی میں 10,500 مخصوص ملازمتوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں، جو پاکستانی افرادی قوت کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
سال 2026 کے اختتام پر اہم مذاکرات کی تیاریملاقات کے دوران سفیر علی جاوید نے سیکریٹری جنرل ریکارڈو گوارگلیا کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ’دو طرفہ سیاسی مشاورت‘ کے ساتویں دور کا انعقاد کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان سال 2026 کی آخری سہ ماہی میں ان مذاکرات کی میزبانی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس کے ساتھ ہی انہوں نے اسلام آباد میں اٹلی کے نئے تعمیر شدہ سفارت خانے کے جلد افتتاح کی خواہش کا بھی اظہار کیا، جو کہ دنیا بھر میں اٹلی کا سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا۔ یہ تمام اقدامات مستقبل میں دونوں ممالک کو معاشی، سفارتی اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے مزید قریب لے آئیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اٹلی اہم مذاکرات پاسپورٹ پاکستان علی جاوید لیبر مائیگریشن معاہدہ ملازمین