چاہت فتح علی خان پر انڈے پھینکنے کا افسوسناک واقعہ ،سوشل میڈیاصارفین برہم
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
انگلینڈ میں متنازع پاکستانی گلوکار چاہت فتح علی خان پر انڈے پھینکنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس پر صارفین کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا گیا کہ ایک شخص چاہت فتح علی خان کے ساتھ تصویر بنواتا ہے اور پھر اپنے ساتھی کو بھی تصویر بنوانے کی دعوت دیتا ہے، اسی دوران ایک شخص اچانک دوڑتا ہوا آتا ہے اور گلوکار کے سر پر انڈہ مار کر فرار ہو جاتا ہے۔
ابھی وہ اس صورتحال سے سنبھل بھی نہیں پاتے کہ ایک اور نوجوان پیچھے سے آ کر دوبارہ ان پر انڈہ مارتا ہے۔
واقعے پر سوشل میڈیا صارفین نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی سے اختلاف رائے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے ساتھ اس طرح کی حرکت کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
100 روپے کا موبائل لوڈ کروانے پر اصل بیلنس کتنا ملتا ہے؟ ٹیکس کی مکمل تفصیل سامنے آگئی
اسلام آباد: 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے، یہ سوال اکثر موبائل صارفین کے ذہن میں آتا ہے۔ پاکستان میں موبائل فون استعمال کرنے والے لاکھوں پری پیڈ صارفین ہر ریچارج پر مختلف ٹیکس ادا کرتے ہیں، جس کے باعث مکمل رقم بطور بیلنس دستیاب نہیں ہوتی۔
موجودہ ٹیکس نظام کے مطابق اگر کوئی صارف 100 روپے کا موبائل لوڈ کرواتا ہے تو اس کے موبائل اکاؤنٹ میں استعمال کے لیے صرف 72 روپے 77 پیسے کا بیلنس دستیاب ہوتا ہے، جبکہ 27 روپے 23 پیسے مختلف ٹیکسوں کی مد میں منہا کر لیے جاتے ہیں۔
100 روپے کے لوڈ پر کتنی کٹوتی ہوتی ہے؟
سرکاری ٹیکس نظام کے مطابق سب سے پہلے 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 13 روپے 4 پیسے کٹ جاتے ہیں۔
اس کے بعد باقی رہ جانے والی رقم پر 19.5 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کیا جاتا ہے، جس کے باعث مزید تقریباً 14 روپے 19 پیسے کی کٹوتی ہوتی ہے۔
یوں مجموعی طور پر 100 روپے موبائل لوڈ پر کتنا بیلنس ملتا ہے کا جواب یہ ہے کہ صارف کو صرف 72.77 روپے ہی استعمال کے لیے ملتے ہیں۔
پری پیڈ صارفین پر زیادہ بوجھ
ماہرین کے مطابق پری پیڈ موبائل صارفین مجموعی طور پر تقریباً 34.5 فیصد ٹیکس کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 20 کروڑ سے زائد موبائل صارفین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد پری پیڈ کنکشن استعمال کرتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل سروسز اور انٹرنیٹ پر زیادہ ٹیکس عائد ہونے سے ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ کم آمدنی والے صارفین کے لیے رابطے اور انٹرنیٹ کی سہولت مزید مہنگی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موبائل سروسز پر ٹیکسوں میں کمی سے نہ صرف عوام کو ریلیف مل سکتا ہے بلکہ ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں بھی اضافہ ممکن ہے۔