عمرہ ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، سردار محمد یوسف
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ عمرہ ایکٹ منظور ہو چکا ہے اور اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا تاکہ عازمین کو کسی طرح کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ حج اور عمرہ کاروباری یا تفریحی سفر نہیں بلکہ عبادت کا مقدس سفر ہیں، اور عازمین کو سعودی قوانین اور مقامی ضوابط کا احترام کرنا چاہیے۔
سردار محمد یوسف نے یہ بات تیسری پاکستان حج و عمرہ نمائش 2025 کی پری لانچنگ تقریب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ حج و عمرہ ایکسپو کے ذریعے ماسٹر ٹرینرز کی تربیت، اسلامی معیشت کے فروغ اور پاکستان کی سعودی عرب کے لیے برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔
مزید پڑھیں: تشدد اور دھمکانے کے کیس میں نامزد فرحان غنی کو عمرہ پر جانے کی اجازت مل گئی
نمائش 24 تا 26 اکتوبر 2025 کو پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر اسلام آباد میں منعقد ہوگی، جس میں سعودی اور پاکستانی کمپنیوں کے علاوہ بینک، ایوی ایشن اور ٹیلی کام سیکٹر کے نمائندگان بھی شریک ہوں گے۔
تقریب میں یہ بات زور دے کر کہی گئی کہ حج و عمرہ انڈسٹری کی ترقی، مذہبی سیاحت کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لیے یہ ایک اہم سنگِ میل ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان حج و عمرہ نمائش 2025 عمرہ ایکٹ وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان حج و عمرہ نمائش 2025 عمرہ ایکٹ وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف سردار محمد یوسف
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔