برطانیہ کے امریکا میں سفیر پیٹر مینڈلسن برطرف، وجہ کیا بنی؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, September 2025 GMT
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئراسٹارمر نے امریکا میں برطانوی سفیر پیٹر مینڈلسن کو سبکدوش کردیا ہے، جب یہ انکشاف ہوا کہ ان کے تعلقات سزا یافتہ امریکی فنانسر جیفری ایپسٹین سے کہیں زیادہ گہرے تھے جتنا پہلے سمجھا گیا تھا۔
امریکی بزنس مین جیفری ایپسٹین جو 2019 میں جیل میں پر اسرار طور پر مردہ پایا گیا، کم عمر لڑکیوں کے ساتھ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ جیسے سنگین جرائم میں سزا یافتہ تھا اور متعدد عالمی سیاستدانوں، سرمایہ کاروں اور بااثر شخصیات سے تعلقات رکھتا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر پر حملہ: برطانوی وزیراعظم اور اسرائیلی صدر کے درمیان ملاقات ’جھڑپ‘ میں بدل گئی
پیٹر مینڈلسن جو ماضی میں لیبر پارٹی کی کامیابیوں میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے، کو برطانیہ کی سب سے اہم سفارتی ذمہ داری سے اس وقت ہٹایا گیا جب ان کی جیفری ایپسٹین کو بھیجی گئی ای میلز اور خطوط سامنے آئے۔ ان میں ایک خط میں ایپسٹین کو ’میرا بہترین دوست‘ قرار دیا گیا تھا اور انہیں 2008 میں کم سزا دلوانے کے لیے مشورے بھی دیے گئے تھے۔
برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ انکشافات مینڈلسن کے تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں اور وہ حقائق سامنے لاتے ہیں جو ان کی سفیر کی تقرری کے وقت موجود نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ سے جھڑکیاں کھانے والے زیلینسکی کو برطانوی وزیراعظم نے گلے لگا لیا؟
اس سے قبل بدھ کو مینڈلسن نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے ایپسٹین کے ساتھ تعلق ضرورت سے کہیں زیادہ دیر تک رکھا اور اسے اپنی بڑی غلطی قرار دیا۔
ابتدائی طور پر وزیرِ اعظم اسٹارمر نے ان کا دفاع کیا تھا، لیکن بڑھتے ہوئے عوامی اور سیاسی دباؤ کے باعث انہیں سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا ای میل برطانیہ برطرف جیفری ایپسٹین سفیر پیٹر مینڈلسن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ای میل برطانیہ جیفری ایپسٹین
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔