Express News:
2026-06-03@06:22:03 GMT

پیغمبرِ انسانیت ﷺ

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

تاریخ شاہد ہے کہ صفحہ گیتی پر تخلیقِ نوع انسانی کے بعد سے آج تک بے شمار علمی، سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات رونق افروز ہوئیں، جن میں سرفہرست انبیائے کرامؑ تشریف لائے، حکماء و فلاسفہ پیدا ہوئے، فصاحت و بلاغت کے امام آئے، قانون و طب کے ماہرین قدم رنجہ ہوئے، مگر ان تمام شخصیات میں جو قدر و منزلت نبی کریم ﷺ کے حصے میں آئی اور جو فدائیت و جاں نثاری آپؐ کے اصحاب و نام لیواؤں نے دکھائی، کسی اور کو یہ اعزاز حاصل نہ ہوسکا۔

یہاں اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ آپؐ کی عظمت و رفعت کے ترانے صرف اپنوں نے نہیں گائے، بل کہ بیگانے بھی آپؐ کی تعریف میں رطب اللسان رہے اور آج تک ہیں۔ آپؐ کی عظیم شخصیت، آپؐ کے اخلاق حمیدہ، آپؐ کی آفاقی تعلیمات اور آپ ﷺ کی سیاسی اور تاریخی عظمت، ایسے روشن حقائق ہیں جن کے ادراک کے بعد کوئی غیر مسلم بھی تعصب و عناد کے خول میں زیادہ دیر تک بند نہیں رہ سکتا۔

آپؐ کی سچائی اور صداقت کا اقرار، آپؐ کی دیانت و پاک دامنی کا اعتراف صرف عربوں تک محدود نہیں رہا بل کہ ساری دنیا کے دانش ور و مفکرین جو تعلیمات اسلام کے منکر ہیں، وہ بھی آپؐ کے مقام و مرتبے کے قائل اور آپؐ کی تعریف و توصیف پر مجبور ہیں۔ کارلائل، نپولین، ٹالسائی، گوئٹے، لینن پول اور دیگر بے شمار ہندو پنڈت و دانش ور آپؐ کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں۔ اغیار، ایسی شہادتیں آپ ﷺ کی حیات طیبہ میں بھی دیتے رہے اور آپؐ کے وصال کے بعد آج تک دیتے چلے آرہے ہیں۔

ایک مسلمان کے نزدیک قرآنِ پاک اور احادیث نبویؐ کی موجودی میں اغیار کے اقوال و آراء کی کوئی اہمیت نہیں اور نہ ہی سیرتِ رسول مقبول ﷺ ان تائیدات و اقتباسات کی چنداں محتاج ہے، لیکن تبلیغی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو ان آراء کی افادیت کسی نہ کسی درجہ میں قابل تسلیم ہے۔

وہ لوگ جو اسلام پر ایمان نہیں رکھتے، قرآنِ کریم پر جن کا یقین نہیں، احادیث مبارکہ کو وقعت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے، ان لوگوں کو انھی کے ہم مذہب، ہم قوم اور ہم عقیدہ دانش وروں کے بعض اقوال و تحریر کے ذریعہ قائل کیا جا سکتا ہے یا کم از کم ان کی منافقت و تضاد بیانی کو منظر عام پر لایا جا سکتا ہے۔ ذیل میں صرف اسی مقصد سے چند غیر مسلم دانش وروں اور ہندو پنڈتوں کے اقوال درج کیے جارہے ہیں۔

٭ غیر مسلم دانش وروں کی آراء:

مائیکل ہارٹ نامی ایک یہودی مصنف نے ’’100عظیم آدمی‘‘ نامی ایک کتاب لکھی ہے، جس پر اس نے (28) سال تحقیق کی اور دنیا کی تاریخ میں اپنے دیرپا نقوش چھوڑنے والی 100 اہم ترین، قد آور شخصیات کے بارے میں بنیادی معلومات لکھ کر اپنا تجزیہ تحریر کیا ہے۔ یہودی ہونے کے باوجود اس نے ہمارے پیارے نبیؐ کا نام ان تمام اہم ترین شخصیات میں سر فہرست رکھا۔ (اگرچہ اس کے مندرجات سے اسلامی نقطۂ نظر سے اختلاف کیا جاسکتا ہے) اور مضمون کا آغاز ان الفاظ میں کیا:

’’ممکن ہے کہ انتہائی موثر کن شخصیات کی فہرست میں محمد (ﷺ) کا شمار سب سے پہلے کرنے پر چند احباب کو حیرت ہو اور کچھ معترض بھی ہوں لیکن یہ واحد تاریخی ہستی ہے جو مذہبی اور دنیاوی دونوں محاذوں پر برابر طور پر کام یاب رہی۔ محمد (ﷺ) نے عاجزانہ طور پر اپنی مساعی کا آغاز کیا اور دنیا کے عظیم مذاہب میں سے ایک مذہب کی بنیاد رکھی اور اسے پھیلایا۔ وہ ایک انتہائی موثر سیاسی راہ نما بھی ثابت ہوئے۔ آج تیرہ سو برس گزرنے کے باوجود ان کے اثرات انسانوں پر ہنوز مسلّم اور گہرے ہیں۔‘‘

 (سو عظیم آدمی: مائیکل ہارٹ)

٭ نام ور فاتح یورپ نپولین بونا پارٹ کا قول ہے:

’’حضرت محمد ﷺ امن اور سلامتی کے ایک عظیم شہزادہ تھے۔ آپؐ نے اپنی عظیم شخصیت سے اپنے فدائیوں کو اپنے گرد جمع کیا۔ صرف چند سالوں میں مسلمانوں نے آدھی دنیا فتح کرلی۔ جھوٹے خداؤں کے پجاریوں کو مسلمانوں نے اسلام کا حلقہ بہ گوش بنا لیا۔ بت پرستی کا خاتمہ کردیا۔ کفار اور مشرکین کے بت کدوں کو پندرہ سال کے عرصے میں ختم کر کے رکھ دیا۔ موسیؑ اور عیسیؑ کے پیروکاروں کو بھی اتنی سعادت حاصل نہ ہو سکی۔ یہ حقیقت ہے کہ حضرت محمد ﷺ بہت بڑے اور عظیم انسان تھے۔ اس قدر عظیم انقلاب کے بعد اگر کوئی دوسرا ہوتا تو خدائی کا دعویٰ کر دیتا۔‘‘ ( بہ حوالہ: بوٹا پارٹ اور اسلام)

٭ ولیم منٹگمری واٹ، رحمتِ عالمؐ کے برداشت و تحمل کے حوالے سے رقم طراز ہے:

’’آپ (ﷺ) کا اپنے عقائد کی خاطر ظلم و ستم اور اذیت کو برداشت کرنے کے لیے تیار رہنا، آپ (ﷺ) کو اپنا راہ نما تسلیم کرنے والوں اور آپؐ پر ایمان رکھنے والوں کا بلند کردار اور انجام کار آپؐ کی کام یابی، آپؐ کی عظمت کی دلیل ہے۔‘‘

٭ سابق مسیحی راہبہ پروفیسر کیرن آر مسٹرانگ اپنی کتاب ’’محمدؐ‘‘ میں جہاد کے اسلامی تصور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں:

’’جہاد، اسلام کے پانچ ارکان میں شامل نہیں اور اہل مغرب میں پائے جانے والے عام خیال کے برخلاف یہ مذہب (اسلام) کا مرکزی نقطہ بھی نہیں، لیکن مسلمانوں پر یہ فرض تھا اور رہے گا کہ وہ اخلاقی، روحانی اور سیاسی ہر محاذ پر ایک مسلسل جدوجہد اور کوشش کرتے ہوئے اپنے آپ کو ہمیشہ مصروف عمل رکھیں، تاکہ انسان کے لیے خدا کی منشاء کے مطابق انصاف اور ایک شائستہ معاشرہ کا قیام ہو۔ جہاں غریب اور کم زور کا استحصال نہ ہو۔ جنگ اور لڑائی بھی بعض اوقات ناگزیر ہوجاتی ہے لیکن یہ اس بڑے جہاد یعنی کوشش کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ ایک معروف حدیث کے مطابق محمد (ﷺ) ایک جنگ سے واپسی پر فرماتے ہیں کہ ہم ایک چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ کر آئے ہیں۔ یعنی اس مشکل اور اہم مجاہدہ یا جہاد زندگانی کی طرف جہاں ایک فرد کو اپنی ذات اور اپنے معاشرے میں روز مرہ زندگی کی تمام تر تفاصیل میں برائی کی قوتوں پر غالب آنا ہے۔‘‘

٭ مسز اینی بیسنٹ اعتراف کرتی ہیں:

’’جو شخص بھی حضرت محمد (ﷺ) عرب کے جلیل القدر پیغمبر کی حیاتِ مقدسہ اور آپؐ کے عظیم کردار اور عمل کا مطالعہ کرتا ہے اور یہ جانتا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے کس طرح اپنی پاکیزہ زندگی بسر کی، اس کے لیے اس کے بغیر چارہ ہی نہیں کہ وہ اس عظیم اور جلیل پیغمبرؐ کی عظمت اور جلالت محسوس نہ کرے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت محمدؐ، خدا کے رسولوں میں بڑی عزت والے رسول تھے۔ میں جو کچھ آپ کے سامنے پیش کر رہی ہوں۔ آپ میں سے اکثر اصحاب شاید اس سے واقف بھی ہوں لیکن میری تو یہ حالت ہے کہ میں جب بھی آپؐ کی سیرتِ پاک کا مطالعہ کرتی ہوں تو میرے دل مین عرب کے اس عظیم اور لاثانی نبیؐ کی نئی عظمت اجاگر ہوتی ہے۔‘‘

( بہ حوالہ: سیرت و تعلیماتِ محمدؐ)

٭ سوامی لکشمن جی اپنی کتاب ’’عرب کا چاند‘‘ میں آپؐ کے تعلق سے ان خیالات کا اظہار کرتے ہیں :

’’جہالت اور ضلالت کے مرکزِ اعظم جزیرہ نمائے عرب کے کوہِ فاران کی چوٹیوں سے ایک نور چمکا، جس نے دنیا کی حالت کو یکسر بدل دیا۔ گوشے گوشے کو نورِ ہدایت سے جگ مگا دیا اور ذرے ذرے کو فروغِ تابشِ حسن سے غیرتِ خورشید بنا دیا۔ آج سے چودہ صدیاں پیشتر اسی گم راہ ملک کے شہر مکہ مکرمہ کی گلیوں سے ایک انقلاب آفریں صدا اٹھی جس نے ظلم و ستم کی فضاؤں میں تہلکہ مچا دیا۔ یہیں سے ہدایت کا وہ چشمہ پھوٹا جس نے اقلیمِ قلوب کی مرجھائی ہوئی کھیتیاں سرسبز و شاداب کر دیں۔ اسی ریگستانی چمنستان میں روحانیت کا وہ پھول کھلا جس کی روح پرور مہک نے دہریت کی دماغ سوز بُو سے گھرے ہوئے انسانوں کے مشامِ جان کو معطر و معنبر کر دیا۔ اسی بے برگ و گیاہ صحرا کے تیرہ و تار افق سے ضلالت و جہالت کی شبِ دیجور میں صداقت و حقانیت کا وہ ماہ تابِ درخشاں طلوع ہُوا جس نے جہالت و باطل کی تاریکیوں کو دور کر کے ذرے ذرے کو اپنی ایمانی روشنی سے جگ مگا کر رشکِ طور بنا دیا، گویا ایک دفعہ پھر خزاں کی جگہ سعادت کی بہار آ گئی۔‘‘ (بہ حوالہ: عرب کا چاند)

مختصر یہ کہ ان چند اقتباسات سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی رسول اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کا غیر جانب داری و بے تعصبی سے مطالعہ کرتا ہے تو بے ساختہ آپ ﷺ کی عظمت کا اعتراف کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آج انسانیت بے شمار روحانی اور سماجی مسائل کا شکار ہے ان جملہ روحانی اور معاشرتی مسائل کا واحد حل سیرت طیبہؐ کے عملی پہلوؤں کو اجاگر کرنے اور ان کو راہ نما بنا کر ان پر عمل کرنے میں پنہاں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی عظمت اور ا پ کے بعد

پڑھیں:

ناتمام (آخری قسط)

ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘

’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘

مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔

 ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘

پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"

پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔

بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘

کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔

 پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔

الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔

کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔

’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘

ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں