WE News:
2026-07-24@09:38:29 GMT

پاکستان ایک منفرد کیس ہے، اسے ایزی نہ لیں

اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT

قطر پر حالیہ اسرائیلی حملہ نہایت افسوسناک، شرمناک اور شدید قابل مذمت ہے۔ اس پر قطر یا مڈل ایسٹ کے دیگر ممالک اپنے ردعمل میں کس حد تک جاتے ہیں، اس پر میرا بحث کا قطعی ارادہ نہیں کہ ہم سب جانتے ہیں کیا ہوگا؟

  پاکستان کے حوالے سے البتہ ایک بحث جو کل سے سوشل میڈیا پر چل رہی ہے، اس پر ضرور بات کرنا چاہوں گا۔ ہمارے بعض دوستوں نے طنز خفی میں اور چند ایک نے کھل کر طنزیہ پوسٹیں لگائیں جن کا لب لباب یہ تھا کہ پاکستان بھی قطر سے مختلف نہیں اور اگر پاکستان پر ایسا حملہ ہوتا تو ہم بھی جواب دینے کی جرات نہیں کرتے کیونکہ فلاں فلاں مواقع پر ہم بھی خاموش رہے وغیرہ وغیرہ۔

یہ بھی پڑھیں: پلاننگ ایسےکی جاتی ہے

یہ بھی کہا گیا کہ پاکستانی سرزمین پر ڈرون اٹیک ہوتے رہے اور پاکستان نے جواب نہیں دیا، مئی 2011 میں اسامہ بن لادن کو پکڑنے کے لیے امریکیوں نے آپریشن کیا اور پاکستانی تماشا دیکھتے رہے وغیرہ۔

دیکھیں، اصول یہ ہے کہ جو بات جیسی ہو، ویسی کہنی چاہیے۔ کسی کی مخالفت بھی ہمیں سچ اور حق بات کہنے سے نہ روک سکے۔ ممکن ہے ہم میں سے کچھ کو اسٹیبلشمنٹ سے اختلاف ہو، سیاست میں غیر سیاسی مداخلت سے یہ ناراض یا برہم ہوں، اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم اپنی فورسز کی صلاحیت اور قوت پر شک کریں۔ طنز کریں، تنقید کریں اور خواہ مخواہ کی لعنت ملامت بطور قوم اور بطور ملک اپنے اوپر کریں، اپنے سر میں خاک ڈالیں اور بے وجہ ماتم کریں۔

پاکستان ایران یا قطر نہیں

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا معاملہ ایران جیسا نہیں، پاکستان قطر نہیں اور نہ ہی یہ غزہ یا مصر ہے۔ پاکستان ایک طاقتور ملک ہے، جس کے پاس  اپنی ضرورت کے مطابق معقول قسم کی عسکری قوت موجود ہے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر قوت ہے اور اس کے پاس لانگ رینج میزائل کی بھی کمی نہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق پاکستانی میزائل ایرانی میزائلوں سے زیادہ موثر اور خطرناک ہیں۔ پاکستان کے ابابیل میزائل جیسی صلاحیت تو کسی بھی مسلم ملک بشمول ترکی کے پاس نہیں۔ جسے شک ہو، وہ زرا سرچ کر کے خود معلومات حاصل کر لے۔

مزید پڑھیے: کیا نیدرلینڈ ماڈل ہمیں سیلاب سے بچا سکتا ہے؟

پاکستان دانستہ اپنے لانگ رینج میزائلز کو لوپروفائل میں رکھتا ہے، ورنہ ہمارے پاس ایسے میزائل موجود ہیں جو اسرائیل تک ہٹ کر سکیں۔ یہ بات اسرائیل سمیت ہر ملک جانتا ہے، اسی لیے وہ پاکستانی نیوکلیئر تنصیبات، ہمارے میزائل سسٹم اور دیگر اہم اثاثہ جات کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے بھی نہیں دیکھ پاتے۔ یہ صرف باتیں نہیں بلکہ پچھلے 30،35 برس اس کے گواہ ہیں۔

ہمارے نیوکلیئر سائنس دان بشمول ڈاکٹر عبدالقدیر خان آخری چند برسوں کے سوا عمر بھر آزاد پھرتے رہے ہیں، تھوڑی بہت سیکیورٹی انہیں حاصل تھی، مگر ایسا نہیں کہ ان سے ملنا ممکن ہی نہیں تھا۔ ہم جیسے صحافی بھی ان سے آسانی سے مل کر انٹرویو وغیرہ کر لیتے تھے۔ ڈاکٹر قدیر خان بے شمار تقریبات میں شریک ہوتے تھے۔

ایسا نہیں کہ ان کی سیکیورٹی ایسی فول پروف تھی کہ دنیا کی کوئی بڑی خفیہ ایجنسی انہیں نشانہ ہی نہ بنا پاتی۔ ایسا نہیں تھا۔ صرف ایک بات ہر ایک کو معلوم تھی کہ پاکستانی سائنسدانوں کو نشانہ بنایا تو پاکستانی خفیہ اداروں میں وہ قوت، اہلیت اور عزم موجود ہے کہ وہ جواب میں انہیں بھی شدید وار کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: پنجاب میں سیلاب، چند اہم سوالات

یہ بات بھارتی خفیہ ایجنسی را جانتی ہے، اسرائیلی موساد کو علم ہے اور روسی کے جے بی اور امریکی سی آئی اے سمیت برطانوی ایم آئی سکس بھی اس سے باخبر ہے۔ جواب دینے کی یہ قوت اور استعداد ہی تحفظ کی اصل کنجی ہے۔

امریکی ڈرون حملے اور اسامہ ہلاکت آپریشن

بعض اوقات صورتحال اس قدر پیچیدہ ہوجاتی ہے کہ اس پر یوں آسانی کے ساتھ رائے دینا ممکن نہیں ہوتا، ہر چیز بلیک اینڈ وائٹ میں نہیں ہوتی۔ ہر چیز کو اس کے تناظر اور پس منظر ہی میں سمجھنا چاہیے۔

پہلے قبائلی ایجنسیوں( سابق پاکستانی فاٹا) پر امریکی ڈرون حملوں کو لے لیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ  بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی تھی اور قومی وقار کا مسئلہ بھی۔ زمینی حقائق مگر یہ بھی تھے کہ پاکستان دہشتگردی کی جنگ میں امریکی اتحادی تھا، وہ اس وقت ایک بڑی اور گہری ڈبل گیم کھیل رہا تھا۔

ایک طرف امریکا کو افغانستان میں آپریشن کے لیے لاجسٹک سپورٹ دے رکھی تھی، ایئربیسز دیے تھے جبکہ دوسری طرف افغان طالبان قیادت اور ان کی اصل قوت کو بچانا بھی مقصود تھا۔

تب ہمارے منصوبہ سازوں نے اس کا یہ حل نکالا کہ افغان طالبان کو بچایا جائے اور القاعدہ جیسی گلوبل ایجنڈا رکھنے والی تنظیم کے خلاف آپریشن کیا جائے، ٹی ٹی پی جو تب القاعدہ کے ساتھ جڑی ہوئی تھی، اس کے خلاف بھی کارروائیاں کی جائیں۔ امریکی پاکستان پر مسلسل دباو ڈال رہے تھے کہ ہم شمالی اور جنوبی وزیرستان کےساتھ باجوڑ اور دیگر ایجنسیوں میں آپریشن کریں۔

پاکستان اس دباؤ کو کئی برسوں تک ٹالتا رہا۔ حتیٰ کہ جب ممکن نہ رہا تو پھر شمالی وزیرستان میں آپریشن کرنے کے بجائے جہاں افغان طالبان کو سپورٹ کرنے والے گروپ آباد تھے، پہلے جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا، پھر باجوڑ شروع کر دیا اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کو مزید سال 2 کے لیے موخر کر دیا۔

اس سب میں مجبوراً امریکیوں کو فاٹا میں ڈرون حملوں کی اجازت دینا پڑی یا یوں کہہ لیں کہ ان حملوں کو گوارا کرنا پڑا۔ اس لیے بھی کہ ان میں سے بعض حملے خود پاکستان کے مفاد میں تھے اور ٹی ٹی پی کے کئی ہائی پروفائل کمانڈر جو پاکستان میں خود کش حملوں کے ذمہ دار تھے، انہیں نشانہ بنایا گیا۔

ایسے لوگوں کی ایک طویل فہرست بن سکتی ہے بیت اللہ محسود سے قاری حسین، قاری ظفر اور ایسے بہت سے ناموں کے علاوہ آخر میں حکیم اللہ محسود تک ۔ میرے پاس ظاہر ہے ثبوت نہیں مگر عین ممکن ہے کہ بعض خودکش بمباروں کے ماسٹر مائنڈز وغیرہ کو اڑانے کے لیے ہم نے اطلاعات بھی فراہم کی ہوں۔

اس لیے ڈرون حملے کسی ملک میں دوسرا ملک کرے تو غلط ہیں، مگر جب ایسی پیچیدہ صورتحال ہو، جہاں بہت کچھ چھپایا جا رہا ہو، ایک سپر پاور کے ساتھ ڈبل گیم چل رہی ہو اور اس میں 8 ، 10، 12 برس گزارے جا چکے ہوں، تب  بہت کچھ ایسا بھی ہوجاتا ہے جو عام حالات میں نہیں ہوتا۔

ویسے یہ ذہن میں رکھیں کہ اتنے برسوں تک امریکی ڈرون حملے کرتے رہے، سینکڑوں حملے ہوئے، مگر ایک بھی ڈرون یا میزائل حملہ پشاور، مردان، نوشہرہ، صوابی ، ڈی آئی خان، بنوں وغیرہ میں نہیں ہوا۔ اس لیے کہ اس کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور ایسا نہیں ہونے دیا گیا۔

2 مئی 2011 کو ابیٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف امریکی آپریشن ایک افسوسناک اور سیاہ باب ہے۔ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ امریکس نے تب ہمارے اداروں کو دھوکا دیا، ایک بڑا سرپرائز دیا اور اپنا ہدف حاصل کرنے کے لیے تمام قوانین کے پرخچے اڑا دیے گئے۔ اس پر پاکستان کو شدید ردعمل دینا چاہیے تھا، مگر نہیں دیا گیا۔ اس پر تنقید بھی ہوسکتی ہے اور آپ چاہیں تو ان حالات کو سمجھ کر رعایت بھی دے سکتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اسامہ بن لادن ایک انٹرنیشنل دہشتگرد تھا، موسٹ وانٹیڈ کریمنل جس کے سر کی قیمت دنیا بھر میں مقرر کی گئی تھی۔ پاکستان بھی آفیشلی اسامہ بن لادن کو بدترین دہشتگرد اور انسانیت دشمن سمجھتا تھا۔ پاکستان کا باقاعدہ مؤقف تھا کہ ہم اسامہ بن لادن کو زندہ یا مردہ پکڑ لیں گے، اس کے لیے بے شمار آپریشن بھی ہوئے۔

اس لیے جس طریقے سے امریکیوں نے وہ آپریشن کیا، وہ سراسر غلط تھا، ہمارے لیے باعث شرمندگی اور باعث رسوائی بنا، مگر بہرحال جس شخص کے لیے وہ آپریشن کیا گیا، پاکستان آفیشلی اس پر انکار یا گریز نہیں کر سکتا تھا۔ اگر اس آپریشن میں پاکستان کو شامل کیا جاتا تو ہمارے لوگ لامحالہ شامل ہوتے کہ اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

پاکستان ایران کیوں نہیں ہے؟

اس لیے کہ پاکستانی قیادت نے ایرانی قیادت جیسی ناسمجھی سے کام نہیں لیا۔ پاکستان نے اپنے لیے تنہائی نہیں چنی، ہم نے سمجھداری کے ساتھ مختلف اتحاد بنائے ہیں۔ اہم ممالک سے قریبی تعلقات استوار رکھے۔

ہم نے مغرب کے ساتھ بھی اچھا تعلق رکھا، امریکا کے ساتھ مختلف اتحادوں کا حصہ رہے، یورپ کے ساتھ خوشگوار تعلق رکھا اور پھر چین کے ساتھ اسٹریٹجک پارٹنر شپ بنائی۔

یہ بھی پڑھیے: آئیے، یادداشتوں کو مٹانے کی کوشش ناکام بنائیں

پاکستان نے اپنی افادیت اور اہمیت سعودی عرب، ترکی، چین جیسے ممالک کو ثابت کی، امریکا کو بھی بار بار انگیج کیا، یورپ بھی پاکستان کو نظرانداز نہیں کر سکتا۔ یہ وہ ہے جو ایرانی قیادت نہیں کر پائی۔ وہ تو چین کے ساتھ اسٹریٹجک عسکری تعلقات تک نہیں بنا پائے۔ روس سے ایس 400 اینٹی میزائل سسٹم تک نہ لے پائے۔

پاکستانی ہتھیاردکھاوا نہیں، چلانے کے لیے ہیں

کہنے کو تو قطر کے پاس بھی اربوں ڈالر مالیت کے جدید امریکی اور یورپی ہتھیار موجود ہیں، جدید رافیل طیارے بھی ہیں اور بھی بہت کچھ۔ افسوس کہ ان میں سے کوئی بھی ہتھیار کبھی چلتا نظر نہیں آیا اور شاید آئے بھی نہیں۔

مڈل ایسٹ کے ان مسلمان ممالک کو اچھی طرح معلوم ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو ایف 35 ففتھ جنریشن سٹیلتھ طیارہ دے رکھا ہے جسے ریڈار پر دیکھنا ہی بہت مشکل ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ جتنے بھی پیسے خرچ کر لیں امریکا کبھی انہیں اسرائیل سے بہتر ہتھیار نہیں دے گا۔ یوں ان کے ہتھیار ہمیشہ کمتر رہیں گے اور اکثر بیشتر وہ شوپیس ہی ہوں گے۔ اگر وہ عقلمندی کرتے تو چینی ہتھیاروں کی طرف جاتے کہ امریکی ہتھیاروں کا کاونٹر صرف چین ہی کر پائے گا۔

پاکستان نے اس کے برعکس ہمیشہ وہ ہتھیار لیے جنہیں چلایا جا سکے، جن سے وہ اپنے دشمنوں کے دانت کھٹے کر سکے۔ پاکستان نے اپنے مخالفوں کی قوت کا بھرپور اندازہ لگایا اور اسی حساب سے اپنے بے حد کم وسائل کے باوجود تیاری کی۔

مزید پڑھیں: 14 اور 15 اگست

پاکستان نے چین جیسا قابل اعتماد اتحادی بنایا، عشروں کی محنت سے ساتھ ایسے اسٹریٹجک تعلقات بنائے کہ چین کئی ایسے ہتھیار جو صرف چینی فوج کو دئیے جاتے ہیں، وہ بھی پاکستان کو دے رہا ہے۔ پی ایل 15 میزائل سے لے کر مجوزہ پی ایل سترہ میزائل، جدید اواکس (k500)طیارے، امریکی اینٹی میزائل سسٹم(Hq19)اور ففتھ جنریش فائٹر طیارے جے 35 اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔

پاکستان واحد غیر سپرپاور ملک ہوگا جو بیک وقت 2 اقسام کے ففتھ جنریش سٹیلتھ فائٹر طیارے لے رہا ہے، چینی جے 35 اور ترکی کا مجوزہ طیارہ کان۔ یہ درست حکمت عملی ہے۔ ففتھ جنریشن فائٹر طیارے کا جواب ففتھ جنریشن طیارہ ہی دے سکتا ہے۔ جنرل بخشی جیسے انڈین دفاعی تجزیہ کار اسی لیے تو تلملاتے ہیں کہ اتنے کم وسائل اور کمزور معیشت کے ساتھ پاکستان ہربار ایسے کرشمے کیسے دکھا دیتا ہے؟

سب سے بڑھ کر ہمارے سائنسدانوں نے غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا اور بہت کم وقت میں ایٹم بم بنا لیا، ایرانی سائنس دان ہم سے 3،4 گنا زیادہ وقت ملنے کے باوجود ناکام رہے۔ ہم نے باہر سے مدد بھی لی ہوگی، مگر بہرحال اپنا شاندار میزائل سسٹم بنا لیا ہے، کئی اقسام کے کروز اور بیلسٹک میزائل خود بنانے کے استعداد اور قوت حاصل کر لی اور بنا بھی ڈالے ۔ خاموشی سے بغیر رولا ڈالے کام کیا اور لوپروفائل رہتے ہوئے ہی ایسے لانگ رینج میزائل بھی بنا ڈالے، جن کا شور آج بھی نہیں ڈالا گیا مگر عسکری ماہرین جانتے ہیں کہ پاکستانی شاہین تھری، فتح اول، دوم ، سوم اور ایم آئی آر وی میزائل ابابیل کیا قوت اور پوٹینشل رکھتے ہیں؟

پوری بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ پاکستان ایران ہے نہ قطر نہ کوئی اور مڈل ایسٹ کا ملک۔ پاکستان کی اپنی قوت، پوٹینشل اور اہمیت ہے۔ بطور پاکستانی ہمیں اس پرخوش ہونا چاہیے۔ یہ انڈیا یا کسی دوسرے ملک کا نہیں، یہ ہمارے ملک کا اعزاز ہے۔ اگر ہماری فوج کوئی معرکہ جیتتی ہے تو یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے۔ اسٹیبلشمنٹ سے سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر بہرحال یہ ہماری فوج ہے، اس کی کامیابیاں ہماری ہیں، اس کی فتوحات ہماری فتوحات ہیں۔ ان پر ناز کرنا چاہیے، اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے مستقبل میں بھی اللہ کی  نصرت کی دعا کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیے: ‘کانگریس کی بدنیتی نے قائداعظم کو الگ وطن پر مجبور کیا‘

قومی تاریخ کے اس سفر میں ہم سے غلطیاں بھی ہوئی ہوں گی، کہیں قیادت نے قوم کو مایوس بھی کیا ہوگا، ظاہر ہے ہم دولخت بھی ہوئے، مگر خدا کے فضل سے ہم نے ہمیشہ کم بیک کیا، اکھاڑے  میں واپس آئے اور پھر فتح یاب ہوئے۔ اس لیے تنقید ضرور کریں، غلطیوں اور خامیوں کی نشاندہی بھی کریں، مگر جو اچھا ہے، وہ تسلیم کریں، اسے سراہیں اور اس پر اللہ کا شکر بجا لاتے ہوئے نازاں ہوں۔ یہی معقول اور منطقی رویہ ہونا چاہیے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

اسامہ بن لادن اسرائیل کا قطر پر حملہ امریکا بھارت پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسامہ بن لادن اسرائیل کا قطر پر حملہ امریکا بھارت پاکستان اسامہ بن لادن کہ پاکستانی پاکستان نے پاکستان کو کہ پاکستان آپریشن کیا ایسا نہیں امریکی ا نہیں کر نہیں کہ ہیں اور کے ساتھ اور اس یہ بھی ہیں کہ کے لیے اس لیے کے پاس ہے اور

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت