ایشوریا رائے کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
بھارت کی عالمی شہرت یافتہ اداکارہ ایشوریا رائے بچن کو اپنی آواز اور تصاویر کے آرٹیفیشل ٹیکنالوجی کی مدد سے نامناسب مواد میں استعمال کے خلاف عدالت میں دائر مقدمے میں بڑا ریلیف مل گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ ایشوریا رائے نے دہلی ہائی کورٹ میں یہ مقدمہ دائر کیا تھا جس پر اب عدالت نے فیصلہ سُنا دیا ہے۔
عدالت نے اداروں کو ایشوریا کی آواز یا ان کے چہرے کے بغیر اجازت استعمال سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے مصنوعی ذہانت کی مدد سے بھی اس کے استعمال سے روک دیا اور ایسے لوگوں کیخلاف کارروائی کا حکم دیا جو اداکارہ کی حق رازداری کیخلاف کام کر رہے ہیں۔
دہلی ہائیکورٹ نے حکم نامے میں کہا کہ اداکارہ یا کسی بھی شخص کی ذاتی خصوصیات جیسے آواز یا چہرے کا بغیر اجازت اور نامناسب انداز میں استعمال نہ صرف اس کے حق رازداری کی خلاف ورزی ہے بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے حق کو بھی مجروح کرتا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امیتابھ بچن اور ایشوریا رائے بچن کے شوہر ابھیشیک بچن بھی عدالت میں درخواست دائر کر چکے ہیں جن میں ان ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کی اپیل کی گئی تھی جو بغیر اجازت ان کی آواز یا تصویروں کا تشہیر کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایشوریا رائے
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔