برطانوی ہائی کمشنر کی ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار سے ملاقات، سیلاب متاثرین کے لیے تعاون کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
برطانیہ کی ہائی کمشنر جین میریٹ نے آج ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔
ملاقات میں برطانیہ نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب اور جاری مون سون بارشوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
برطانیہ کی ہنگامی امدادہائی کمشنر نے بتایا کہ برطانیہ کی جانب سے ہنگامی امداد اور فوری ردعمل کے لیے 30 لاکھ پاؤنڈ فراہم کیے جا رہے ہیں، جب کہ بحالی اور تعمیر نو کے عمل میں مزید انسانی امداد بھی حکومت پاکستان اور این ڈی ایم اے کے ساتھ قریبی تعاون سے فراہم کی جائے گی۔
پاکستان کی جانب سے اظہار تشکرڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانیہ کی بروقت امداد اور یکجہتی پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تعاون متاثرین کی فوری ضروریات پورا کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان عالمی مالیاتی ڈھانچے کی اصلاح کے لیے قائدانہ کردار ادا کررہا ہے، اسحاق ڈار
انہوں نے برطانیہ کی جانب سے موجودہ تباہی کے پیمانے کو سمجھنے اور پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کو سراہا۔
دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر گفتگوملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اعلیٰ سطحی روابط کی اہمیت اور حالیہ علاقائی و بین الاقوامی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس خبر کو زیادہ تفصیلی انداز میں قومی اخبارات کی اسٹائل میں لکھ دوں، مثلاً ذیلی سرخیاں اور حکومتی ذرائع کا پس منظر شامل کر کے؟
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسحاق ڈار برطانوی ہائی کمشنر برطانیہ پاکستان سیلاب.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار برطانوی ہائی کمشنر برطانیہ پاکستان سیلاب برطانیہ کی ہائی کمشنر اسحاق ڈار کے لیے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔