ٹرمپ کا امن انعام حاصل کرنے کا دبا وکسی صورت فیصلہ سازی پر اثرانداز نہیں ہوگا، نوبل کمیٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, September 2025 GMT
ٹرمپ کا امن انعام حاصل کرنے کا دبا وکسی صورت فیصلہ سازی پر اثرانداز نہیں ہوگا، نوبل کمیٹی WhatsAppFacebookTwitter 0 12 September, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز)امریکی صدر ٹرمپ کا خود کو نوبل انعام کیلئے حقدار کہنے پر نوبل کمیٹی کا موقف سامنے آگیا ہے۔
نوبل کمیٹی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا امن انعام حاصل کرنے کا دباو کسی صورت فیصلہ سازی پر اثرانداز نہیں ہوگا،ہر امیدوار کا جائزہ اس کی انفرادی صلاحیتوں اور خدمات کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔ہمارے فیصلے مکمل طور پر آزادانہ اور غیر جانبدارانہ ہوتے ہیں،امن انعام کا اعلان 10 اکتوبر کو کیا جائے گا۔یاد رہے کہ پاکستان ، اسرائیل ، کمبوڈیا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کے لیے نامزد کررکھا ہے ۔
امن کا نویل انعام اس شخص کو دیا جاتا ہے جس نے ملکوں کے درمیان رفاقت بڑھانے، مستقل فوجیں ختم یا کم کرنے، اور امن کے قیام اور فروغ کے لیے سب سے زیادہ یا بہترین کام کیا ہو۔نویل اس انعامات کے سلسلے کا نام ہے جس میں کمسٹری، فزکس، طب، ادب اور امن جیسے شعبوں میں ایوارڈز دیے جاتے ہیں، نوبل انعام ان لوگوں کو دیے جاتے ہیں جنھوں نے گذشتہ 12 ماہ کے دوران انسانیت کو عظیم فائدہ پہنچایا۔تعلیمی ماہر، یونیورسٹی کے اساتذہ، سائنسدان، گذشتہ فاتحین اور دیگر لوگ اپنی طرف سے نامزدگیاں دائر کرتے ہیں۔ نوبل فانڈیشن کے اصولوں کے تحت نامزد کیے گئے افراد کی فہرست اگلے 50 سال تک شائع نہیں کی جاسکتی۔ کوئی بھی خود کا نام نامزد نہیں کر سکتا۔
نوبل انعام جیتنے والوں کو لوریٹس (یعنی نوبل انعام یافتہ)کہا جاتا ہے۔ یہ قدیم یونان میں فاتحین کو ملنے والی پھولوں کی چادر کی علامت ہے۔ہر انعام ایک سے زیادہ شخص جیت سکتا ہے لیکن ایک انعام تین سے زیادہ لوگوں کو نہیں مل سکتا۔ایسے بھی کچھ سال گزرے ہیں جب نوبل انعام کسی کو پیش نہیں کیا گیا۔ ان میں اکثر سال پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے ہیں۔نوبل فانڈیشن کے اصولوں میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی ایک شعبے میں انعام کا مستحق نہیں تو یہ کسی کو بھی نہیں دیا جائے گا۔ بلکہ انعام کی رقم اگلے سال کے لیے رکھ لی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسرائیل کا قطر میں حماس رہنماں پر حملہ، امارات نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا اسرائیل کا قطر میں حماس رہنماں پر حملہ، امارات نے اسرائیلی سفیر کو طلب کرلیا ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی نے پاکستان کو نگرانی کی فہرست سے نکال دیا پنجاب میں سیلاب سے 97شہری جاں بحق، 4500دیہات متاثر ہوئے،پی ڈی ایم اے عمران خان کیخلاف ہرجانہ کیس، وزیراعظم شہباز شریف کی جلد جرح مکمل کرنے کی استدعا سیلابی صورتحال کے پیش نظرملک بھر میں ایم ڈی کیٹ امتحان کا شیڈول تبدیل برطانیہ کا پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے ایک ارب روپے سے زائد ہنگامی امداد کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نوبل کمیٹی ٹرمپ کا کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔