ججز یا وکلا کے بجائے سائل کا مفاد ہمیشہ مقدم ہونا چاہیے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے جوڈیشل کانفرنس جموں و کشمیر کی گولڈن جوبلی کے موقع پر آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ کو مبارکباد دی۔
مظفر آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ نے جرات اور عزت کے ساتھ خطے میں ایک اہم سنگ میل طے کیا ہے۔ تاہم آزاد کشمیر میں بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگی اور بچوں اور خواتین کی انصاف تک رسائی جیسے چیلنجز درپیش ہیں۔
انہوں نے آزاد جموں کشمیر کی عدلیہ کو مسائل کے حل میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ججز یا وکلا کے بجائے سائل کا مفاد ہمیشہ مقدم ہونا چاہیے، بینچ اور بار کے درمیان تعلقات مثبت ہونے چاہئیں، اس کے بغیر قانون کی حکمرانی اور اصلاحات ممکن نہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس موقع پر عدلیہ اور انصاف کی فراہمی میں ٹیکنالوجی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور آزاد کشمیر کی عدلیہ کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کشمیر کی
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز