شلپا شیٹی کے شوہر نے 72 ملین ڈالر کے فراڈ کے الزامات پر خاموشی توڑ دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
شلپا شیٹی کے شوہر راج کندرا نے 72 ملین ڈالر کے فراڈ کے الزامات پر ردِ عمل دے دیا۔
بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ شلپا شیٹی کے شوہر اور بھارتی بزنس مین راج کندرا نے اپنے خلاف دائر 6.04 ارب روپے (تقریباً 72 ملین ڈالر) کے مبینہ فراڈ کے الزامات کی تردید کردی ہے۔
نئی دہلی میں اپنی پنجابی فلم ’مہر‘ کے پروموشن کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راج کندرا نے کہا کہ انہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا اور سچ جلد سامنے آ جائے گا۔ کندرا کا کہنا تھا کہ ’ہم نے اب تک کچھ نہیں کہا کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ ہم بے قصور ہیں، جلد سچ سامنے آ جائے گا۔‘
یاد رہے کہ شلپا شیٹی اور راج کندرا پر یہ الزامات 60 سالہ بزنس مین دیپک کوٹھاری کی جانب سے لگائے گئے ہیں، دیپک نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایک سرمایہ کاری کے معاہدے میں جوکہ 2015 سے 2023 کے دوران کیا گیا تھا راج کندرا اور شلپا شیٹی نے دھوکہ دیا۔
دیپک کے مطابق انہیں 2015 میں بیسٹ ڈیل ٹی وی پرائیویٹ لمیٹڈ، جس کے شریک مالکان کندرا اور شیٹی تھے، کو 12 فیصد سالانہ منافع پر 7.
اس دوران انہوں نے مجموعی طور پر 6.04 ارب بھارتی روپے راج کندرا کو منتقل کیے لیکن بعد میں یہ معاہدہ ایک سرمایہ کاری میں تبدیل کردیا گیا۔
دیپک کا کہنا ہے کہ شلپا شیٹی نے اپریل 2016 میں اس معاہدے کیلئے ذاتی ضمانت دی تھی لیکن ستمبر 2016 میں اداکارہ نے کمپنی ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ دیپک نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اُس وقت کمپنی پر دیوالیہ ہونے کے مقدمات بھی چل رہے تھے، جو مبینہ طور پر ان سے چھپائے گئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شلپا شیٹی
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔