لندن میں مشیر اطلاعات پر حملہ، بنگلہ دیش کا ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT
بنگلہ دیش نے مشیراطلاعات محفوظ عالم پر لندن میں ہونے والے حملے کی کوشش پر برطانوی حکومت سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
حکومتِ بنگلہ دیش نے لندن میں مشیر اطلاعات و نشریات محفوظ عالم پر حملے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، یہ واقعہ 12 ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب وہ لندن کی سوآس یونیورسٹی میں جولائی بغاوت کی پہلی برسی کی تقریب سے نکل رہے تھے کہ اس دوران مظاہرین نے بنگلہ دیش ہائی کمیشن کی گاڑیوں پر انڈے پھینکے اور مختصر وقت کے لیے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ لندن پولیس نے فوری مداخلت کرکے صورتِ حال قابو میں کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: عوامی لیگ نے متنازع بنا دیا، شیخ مجیب کو بابائے قوم نہیں سمجھتے، بنگلہ دیشی مشیر اطلاعات
لندن میں بنگلہ دیش کے ہائی کمیشن کے مطابق پولیس مسلسل رابطے میں رہی اور مشیر محفوظ عالم کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ رپورٹوں کے مطابق انڈے جن گاڑیوں پر پھینکے گئے، ان میں مشیر موجود نہیں تھے۔
یاد رہے کہ چند ہفتے قبل نیویارک میں بھی محفوظ عالم کو سرکاری مصروفیات کے دوران اسی نوعیت کے حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا، جہاں مظاہرین نے انڈے اور بوتلیں پھینکیں اور قونصلیٹ جنرل کی عمارت کے شیشے توڑ دیے تھے۔ اس موقع پر بنگلہ دیشی مشن نے امریکی حکام کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
چیف ایڈوائزر کے پریس سیکریٹری شفیق الحق نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ طرزِ عمل مہذب معاشروں کے برعکس اور کھلی غنڈہ گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ہمارا مؤقف واضح ہے، تشدد احتجاج نہیں، دھونس آزادی اظہار نہیں۔‘
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی ہائی کمشنر کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل سے ملاقات
حکومتِ بنگلہ دیش نے کہا کہ لندن اور نیویارک کے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ جمہوری اقدار کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
حکومت نے برطانیہ کی پولیس پر زور دیا کہ وہ دستیاب فوٹیج کی مدد سے حملہ آوروں کی نشاندہی کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
اس بیان میں کہا گیا کہ جمہوریت جذبات کا مطالبہ ضرور کرتی ہے مگر ساتھ ہی ضبط و تحمل بھی اس کی بنیادی شرط ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت نے باور کرایا کہ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن سرکاری شخصیات اور شہریوں کی آزادانہ شرکت اور سلامتی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگلہ دیش حملہ لندن محفوظ عالم مشیر اطلاعات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش حملہ محفوظ عالم مشیر اطلاعات مشیر اطلاعات محفوظ عالم بنگلہ دیش کا مطالبہ کی کوشش
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔