انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان زینب مزاری-حاضر نے اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے رجسٹرار کو رواں ہفتے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کے ساتھ مکالمے کے دوران خود کیساتھ پیش آنے والے ’افسوسناک واقعے‘ کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست جمع کرائی ہے۔

اپنی درخواست میں ایمان زینب مزاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کی، انہوں نے کہا کہ میں آپ کو یہ خط لکھ رہی ہوں تاکہ معزز چیف جسٹس کی عدالت نمبر 1 کی 11 ستمبر 2025 کی صبح 9 بجے سے 11 بجے تک کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائے، کیوں کہ اس دوران میرے ساتھ ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ ضروری ہے کہ مکالمے کی ریکارڈنگ محفوظ کی جائے۔

Submitted application today seeking preservation of CCTV footage from Islamabad High Court Courtroom No.

1 on 11 September 2025 between 9 and 11 AM pic.twitter.com/yriwjnmMTe

— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) September 13, 2025


درخواست میں کہا گیا ہے کہ میں یہ بھی گزارش کروں گی کہ مذکورہ تاریخ اور وقت کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی ایک کاپی مجھے فراہم کی جائے، جس کے لیے میں نے اس درخواست کے ساتھ ایک یو ایس بی منسلک کی ہے۔
ایمان زینب مزاری نے اپنی درخواست میں جن عدالتی کارروائیوں کا حوالہ دیا، وہ جمعرات کے روز کی سماعت کی ہیں، جب وہ اپنے مؤکل کی نمائندگی کر رہی تھیں، جس نے آئی ایچ سی کے چیف جسٹس ڈوگر کی عدالت میںانسانی حقوق کی کارکن ماہ رنگ بلوچ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی استدعا کی تھی۔

سماعت کے دوران جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایمان زینب مزاری کو توہین عدالت کی کارروائی سے خبردار کیا اور اطلاع کے مطابق یہاں تک کہا کہ وہ انہیں ’پکڑوا بھی سکتے ہیں‘۔
ایمان مزاری نے مؤقف اپنایا کہ وہ محض اپنا پیشہ ورانہ فریضہ ادا کر رہی ہیں اور اگر عدالت ضروری سمجھے تو وہ توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اگلے ہی روز ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران، جسٹس سرفراز ڈوگر نے وضاحت پیش کی کہ ان کے الفاظ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا، انہوں نے یہ بھی تردید کی کہ انہوں نے کبھی ’پکڑوا دینے‘ جیسا کچھ کہا۔

اس دعوے کو ایمان مزاری کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے بھی چیلنج کیا، وہ جو جمعرات کی سماعت میں بھی شریک تھے۔

اپنی وضاحت میں جسٹس سرفراز ڈوگر نے یہ بھی کہا کہ ایمان مزاری ان کے لیے بیٹی کی مانند ہیں اور وہ صرف انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں انہیں ایسے سمجھا رہا تھا جیسے کسی بچے کو سمجھاتا ہوں، مگر وہ بات نہیں سمجھ رہی تھیں، وہ بار بار بنیادی حقوق کا ذکر کر رہی تھیں، کیا اس عدالت کے اپنے کوئی بنیادی حقوق نہیں ہیں؟۔

ان کے ان ریمارکس نے ملک کی قانونی برادری اور خود ایمان مزاری کی طرف سے تنقید کو جنم دیا، جنہوں نے ان کے بیانات کو ’صنفی امتیازی‘ قرار دیا۔

متعدد وکلا تنظیموں اور بار ایسوسی ایشنز نے آئی ایچ سی کے چیف جسٹس کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے بیانات جاری کیے، اور کچھ نے تو ان کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس مکالمے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ وکلا عدالت کے افسر ہوتے ہیں اور ان کی عزت و وقار کو بھی ترجیح دی جانی چاہیے، جیسے معزز جج صاحبان کی عزت کو دی جاتی ہے۔

لاہور ہائیکورٹ بار نے سپریم جوڈیشل کونسل سے جسٹس سرفراز ڈوگر کو ان کے عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

یہ مطالبہ بلوچستان بار کونسل نے بھی دہرایا، جب کہ کراچی بار ایسوسی ایشن (کے بی اے) نے جسٹس ڈوگر کے انتہائی نامناسب رویے کی سخت مذمت کی۔

ویمنز ایکشن فورم نے بھی جج کے مبینہ ریمارکس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان انتہائی قابلِ اعتراض پدرشاہی، خواتین دشمن، صنفی تعصب پر مبنی ریمارکس، رویے اور وکیل کے شوہر کو مخاطب کرنے میں استعمال ہونے والی سرپرستانہ ’زبان‘ کی مذمت کی۔

Post Views: 6

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جسٹس سرفراز ڈوگر ایمان زینب مزاری ایمان مزاری انہوں نے چیف جسٹس کہا کہ

پڑھیں:

ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔

(جاری ہے)

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور