WE News:
2026-07-24@01:49:01 GMT

سینیٹ کمیٹی نے دیت کی کم از کم رقم بڑھانے کا بل منظور کرلیا

اشاعت کی تاریخ: 13th, September 2025 GMT

سینیٹ کمیٹی نے دیت کی کم از کم رقم بڑھانے کا بل منظور کرلیا

سینیٹ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے دیت کی کم از کم رقم بڑھانے کا بل منظور کرلیا ہے

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے پاکستان پینل کوڈ (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری دے دی، جس کے تحت دیت کی کم از کم مالیت 30 ہزار 663 گرام چاندی سے بڑھا کر 45 ہزار گرام مقرر کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نشستیں بڑھانے کا معاملہ، سینیٹ قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے ذیلی کمیٹی تشکیل دے دی

کمیٹی کی صدارت سینیٹر فاروق حمید نائیک نے کی، ان کا کہنا تھا کہ دیت کی رقم میں اضافہ ناگزیر تھا تاکہ انسانی جان کی حرمت کو اجاگر کیا جاسکے، ورثا کو منصفانہ معاوضہ ملے اور معاشرے میں مؤثر انصاف قائم ہو۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے وضاحت کی کہ یہ ترمیم اسلامی احکامات کے مطابق ہے اور شریعت کے اصولوں سے ہم آہنگ ہے۔ تاہم سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بل پر اختلافی نوٹ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کا بوجھ کمزور مالی حیثیت رکھنے والے مجرمان پر زیادہ پڑے گا۔

اجلاس میں خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق ایک اور اہم قانون سازی بھی منظور کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی نے ایلون مسک سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیوں کیا؟

فیملی کورٹس (ترمیمی) بل 2024 کے مطابق طلاق یافتہ خواتین اور ان کے بچوں کا نان نفقہ پہلے ہی روز مقرر کیا جائے گا، اور اگر مدعا علیہ ہر ماہ 14 تاریخ تک ادائیگی نہ کرے تو اس کا دفاع ختم کر دیا جائے گا اور کیس دعویٰ اور ثبوت کی بنیاد پر یکطرفہ فیصلے کے ساتھ نمٹایا جائے گا۔

سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ پاکستان میں طلاق کے مقدمات کئی سالوں تک چلتے رہتے ہیں جس سے خواتین اور بچوں کو سخت مالی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ یہ ترمیم فوری ریلیف فراہم کرے گی اور کمزور طبقات کی عزت و وقار کو یقینی بنائے گی۔

دوسری جانب، آئین (ترمیمی) بل 2025، جس کا مقصد آرٹیکل 27 میں تبدیلی تھا، سینیٹر محمد عبدالقادر نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے اور آئین میں موجود شق کے باعث واپس لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی کا اسپیکٹرم کی نیلامی میں تاخیر اظہار تشویش، سائبر فراڈز پر فوری اصلاحات کا مطالبہ

اجلاس میں سینیٹر شاہادت اعوان، سینیٹر کامران مرتضیٰ، سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری سمیت متعلقہ حکومتی محکموں کے حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان پاکستان پینل کوڈ دیت بل سینیٹ کمیٹی قانون و انصاف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان پینل کوڈ دیت بل سینیٹ کمیٹی قانون و انصاف قانون و انصاف سینیٹ کمیٹی دیت کی

پڑھیں:

چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت

دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔

تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139  نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن