پنجاب میں مون سون بارشوں کے 11ویں اسپیل کی پیشگوئی، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
لاہور:
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کا مون سون بارشوں کے 11 ویں اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق 16 سے 19 ستمبر تک دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبہ بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو الرٹ رہنے کی ہدایات کر دی۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ مون سون بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ہے، وزیر اعلٰی پنجاب کی ہدایات کے پیش نظر کمشنر ز ڈپٹی کمشنرز اور دیگر افسران الرٹ ہیں۔
محکمہ صحت، آبپاشی، تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لائیو اسٹاک کو الرٹ جاری کیا گیا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق شہریوں سے التماس ہے کہ خراب موسم کی صورتحال میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں کے اطراف اکٹھے ہونے اور سیرو تفریح سے گریز کریں۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ آندھی و طوفان کی صورتحال میں محفوظ مقامات پر رہیں غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
ایمرجنسی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔