’لائیو چیٹ نوجوان نسل کو تباہ کر رہی ہے‘،پنجاب اسمبلی میں ٹک ٹاک پر پابندی کی قرارداد جمع
اشاعت کی تاریخ: 14th, September 2025 GMT
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن رکن فرخ جاوید مون نے سماجی ویب سائٹ ٹک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے لیے قرارداد جمع کرا دی۔
یہ بھی پڑھیں:متنازعہ پرینک ویڈیو بنانے پر معروف ٹک ٹاکر کو پابندی کا سامنا
قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان میں اس وقت ٹک ٹاک مافیا لائیو چیٹ کے ذریعے فحاشی اور عریانی کو فروغ دے رہا ہے، جس کے باعث نوجوان نسل، خصوصاً بچے، بے حیائی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔
متن میں کہا گیا کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نہ صرف آپس میں فحش گفتگو کرتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو غیر اخلاقی حرکات پر بھی اکساتے ہیں، جو ہمارے اسلامی معاشرتی اقدار کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:البانیہ میں ٹک ٹاک پر ایک سال کے لیے پابندی عائد
فرخ جاوید مون کے مطابق، نوجوان محض سستی شہرت اور پیسے کی خاطر بڑی تعداد میں ٹک ٹاک کا رخ کر رہے ہیں، جس سے معاشرے میں منفی رجحانات کو تقویت مل رہی ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت فوری طور پر ٹک ٹاک اور اس کی لائو چیٹ پر پابندی عائد کرے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی اور بے راہ روی سے بچایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب اسمبلی ٹک ٹاک ٹک ٹاک پابندی فرخ جاوید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب اسمبلی ٹک ٹاک ٹک ٹاک پابندی فرخ جاوید پنجاب اسمبلی ٹک ٹاک کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔