چاول دنیا کی سب سے زیادہ کھائی جانے والی غذا ہے، مگر اس کی غذائیت اس کی اقسام کیوجہ سے مختلف ہوتی ہیں۔

درج ذیل انہی اقسام اور ان کی غذائیت کے بارے میں بات کی گئی ہے اور یہ بھی بتایا  گیا ہے کہ ان میں سے انسانی صحت کیلئے سب سے بہترین چاول کونسے ہیں۔

سفید چاول

یہ سب سے زیادہ عام استعمال ہونے والے چاول ہیں۔ پالش ہونے کی وجہ سے ان میں فائبر اور کئی غذائی اجزا کم ہو جاتے ہیں۔ یہ ہضم جلدی ہو جاتا ہے مگر شوگر لیول تیزی سے بڑھاتا ہے۔

براؤن رائس

یہ مکمل اناج والا ہوتا ہے کیونکہ اس میں چاول کی بیرونی تہہ موجود رہتی ہے۔ فائبر، میگنیشیم، وٹامن بی اور antioxidants زیادہ ہوتے ہیں۔ ہاضمے میں وقت لیتا ہے، اس لیے شوگر اور کولیسٹرول کے لیے بہتر ہے۔

سرخ چاول

اس کا سرخ رنگ anthocyanins نامی اینٹی آکسیڈینٹس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ فائبر اور منرلز (آئرن اور زنک) زیادہ ہوتے ہیں۔ دل، بلڈ پریشر اور مدافعتی نظام کے لیے مفید ہے۔

کالا چاول

سب سے زیادہ اینٹی آکسیڈینٹس رکھنے والی قسم سمجھی جاتی ہے۔ پروٹین، فولاد، آئرن اور وٹامن ای بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اینٹی سوزش اور کینسر سے بچاؤ خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔

باسمتی چاول

یہ زیادہ خوشبودار اور لمبے دانے والے چاول ہوتے ہیں۔ سفید اور براؤن دونوں شکلوں میں دستیاب ہوتے ہیں۔ دوسرے سفید چاول کے مقابلے میں ان میں شوگر کم ہوتی ہے یعنی شوگر کے مریضوں کے لیے نسبتاً بہتر ہے۔

صحت کے لیے بہترین کون سا؟

براؤن رائس، سرخ چاول یا کالا چاول صحت کیلئے بہتر ہیں کیونکہ ان میں فائبر زیادہ اور شوگر کم ہے۔ دل اور کولیسٹرول کے لیے بھی براؤن رائس اور سرخ چاول زیادہ فائدہ مند ہے۔ اس میں ناکارہ بڑھاپے اور بیماریوں سے بچاؤ کی خصوصیت بھی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ