Express News:
2026-07-24@11:00:41 GMT

حکمت عملی کو تبدیل ہونا چاہیے!

اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT

کامیاب حکومتیں اور ریاستیں‘ اپنے دوستوں کی تعداد میں ہر دم اضافہ کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں امن‘ یگانگت اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔ تمام تنازعات جو ان کے ملک کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، ان سے دور رہتی ہیں۔ ان خوش بخت حکومتوں کی صرف ایک شعوری کوشش بلکہ جدوجہد ہوتی ہے کہ شہری‘ محفوظ ‘ خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن رہیں۔ یہ عام سی باتیں ہیں جو ہر خاص و عام کو سمجھ آتی ہیں ۔ مگر معاملہ بالکل سادہ نہیں ہے۔ جس طرح کی ریاستوں اور ان کے حکمرانوں کا میں ذکر کر رہا ہوں، وہ محدود ہیں۔

مغرب اور امریکا کے سوا سمجھدار اور دانا ریاستوں کا شدید فقدان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دنیا میں سطحی سوچ پر قائم حکومتوں کی تعداد اب بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ایشیاء‘ مشرق وسطی‘ روس اور افریقہ اس منفی طرز حکومت کی کامیاب مگر بدقسمت مثالیں ہیں۔ شومئی قسمت سے ہمارا ملک‘ اس منفی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں دنیا کی ہرمصیبت مونہہ پھاڑ کر وسائل اور زندگیوں کو نگل رہی ہے۔ موجودہ یا کوئی بھی سابقہ حکومت  فلاحی نہیں کہی جا سکتی۔ملک کے پیچیدہ اور غیر پیچیدہ ‘ دونوں طرح کے مسائل ایک مخصوص طرز فکر کی بدولت حل نہیں کیے گئے۔

المیہ یہ ہے کہ جس حکمران نے لوگوں کے لیے کچھ بہتر کرنے کی کوشش کی‘ اسے دیوار میں چنوا دیا گیا۔ غدار ‘ کرپٹ‘ ملک دشمن‘ پیدا گیر اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا۔ عوامی مسائل نہ پہلے کبھی اہم تھے اور نہ ہی آج ان کی اہمیت ہے۔ آپ کسی قسم کا حادثہ دیکھنا چاہیں تو وہ ہمارے ملک میں مونہہ سے آگ نکالتا ہوا نظر آئے گا۔ ساتھ ساتھ‘ ایک اور نکتہ بھی موجود ہے۔ خوفناک ترین سطح کی مصیبتوں کو حل کرنے کی کوئی بھی حکمت عملی دکھائی نہیں دے گی۔ خلوص نیت کا فقدان اپنی جگہ‘ مگر اب تو استطاعت پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔

حالیہ چند دنوں میں ہونے والے واقعات کو اگر غیر جذباتی طریقے سے پرکھیں ‘ تو دل دہل جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب کے جواب میں پاکستانی مندوب کی تقریر کو حد درجہ بہادرانہ جہت اور فتح کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ہاں ! آپ دونوں تقاریر کو سنیں تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے سفیر نے الفاظ کے چناؤ اور ادائیگی میں حددرجہ محنت کی ہے۔ مگر صاحبان! یہ صرف تقاریر ہیں، محض الفاظ ہیں‘ اصل بات تو یہی ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

مسلم قیادت ‘ اندر سے گھبرائی ہوئی ہے ، البتہ اسرائیل کی مذمت بھرپور طریقے سے کی گئی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ سعودی عرب اور اردن بھی اس فضائی دہشت گردی کی طاقتور الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی طیارے کن ممالک کی فضائی حدود سے گذر کر قطر پر حملہ آور ہوئے ، سمجھداروں کے لیے اشارہ کافی ہے ۔ویسے اسرائیلی وزیراعظم بھی مسلم ممالک کے حکمرانوں کے بیانات پر قہقہے ضرور لگاتا ہو گا۔

 پاکستان لفاظی مذمت کرنے میں بازی لے گیا اور اسرائیل کے سب سے زیادہ خلاف نظر آتا ہے۔ ہماری ملکی حکمت عملی پر حیرانی ہوتی ہے کہ ہم سے اپنا ملک تو سنبھالا نہیں جاتا‘ مگر ہم چھلانگیں لگا لگا کر‘ اپنے سے طاقتور ممالک کو اپنا ’’ازلی دشمن‘‘ بڑی کامیابی سے بنا رہے ہیں۔ زمینی حقائق کا ادراک کیے بغیر ہم ایک ایسے سفر پر روانہ ہونا چاہتے ہیں‘ جس سے ہمارے پہلے سے گمبھیر مسائل مزید گمبھیر ہو سکتے ہیں۔

دراصل سات دہائیوں سے ہمارے حکمرانوں نے‘ عوام کے ذہنوں میں مختلف طرز کے فوبیاز پیدا کیے ہیں حالانکہ پاکستان جمہوری ملک کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ مگر اس کو مسلسل حالت جنگ میں رکھنے کا کام‘ حد درجہ عیاری سے کیا گیا۔ جذباتیت اور عقیدہ پرستی کا ملغوبہ اس طرح بنایا گیا کہ پوری قوم کے مسائل نظر انداز کر کے‘ نسلوں تک کی مخصوص ذہن سازی کردی گئی۔

کوئی ہمیں یہ بتانے کے لیے تیارنہیں کہ ایوب دور میں‘ آپریشن جبرالٹر‘ کیوں شروع کیاگیا؟ اس وقت کے وزیر خارجہ نے کس بنیاد پر ایوب کو یہ اعتماد فروخت کیا کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحد کبھی عبور نہیں کرے گا۔ یوں 1965کی جنگ کا آغاز ہوا۔ انڈیا نے ہمارے ملک پر یلغار کر دی تھی۔ جو ایک کامیاب دفاع کے ذریعے‘ برابری کی سطح پر ختم ہوئی تھی۔ 1965کی جنگ کا اصل نقصان یہ تھا کہ ہماری حد درجہ کامیاب صنعتی ترقی کا پہیہ رک گیا۔ مگر کیا یہ سچائی ہمیں کسی سطح پر بتائی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں‘ اگر آپ کو اس نکتہ پر اتفاق نہیں‘ تو بین الاقوامی سطح کے غیر جانبدار لکھاریوں اور اخبارات کو پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ ہو سکتا ہے‘ آپ قائل ہو جائیں۔

بھارتی مقبوضہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کا دانشمندانہ طریقہ یہ تھا کہ آزاد کشمیر کو ہم سوئٹزرلینڈ کی طرز پر ترقی کرواتے۔ اسے پوری دنیا کے لیے ایک مثبت مثال بنا دیتے۔ یقین فرمائیے کہ مقبوضہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے کسی جنگ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس سے آگے کیا لکھوں ‘ بلکہ کیوں لکھوں۔ 70کی جنگ کا نتیجہ کیا نکلا؟حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کیوں چھپائی گئی ؟ کارگل میں ہمیں کتنا بھاری نقصان ہوا۔ یہ سب کچھ ‘ غیر مناسب طرز سے چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی جو شاید آج تک جاری ہے۔

افغانستان کے ساتھ بھی ہمارے معاملات دشمنی تک محدود رہے ہیں بلکہ اب تو بات بہت بڑھ چکی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہمارے جوان جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ مگر دہشت گردی کم ہونے کو آ ہی نہیں رہی۔ بلکہ چندہفتوں میں تو اس میں حد درجہ بڑھاوا آ چکا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمسایہ ممالک ہمارے دو صوبوں میں مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ مگر پوچھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں کہ اس خوفناک صورت حال سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ پاکستانی سفارت کاروں سے بات کریں تو نجی محفلوں میں ان کا جواب حکومتی بیانیے سے مختلف بلکہ متضاد ہوتا ہے۔

 شاید آج آپ کو یقین نہ آئے کہ ہندوستان میں جنگی پریڈ پر ابتدائی دور میں مہمان خصوصی پاکستان کا گورنر جنرل ہوا کرتا تھا۔ قائداعظم کا یہ جملہ کہ ان کے مالا بار ہلز پر گھر کو صاف ستھرا رکھا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی چھٹیاں ہندوستان میں منا سکیں۔ ان الفاظ کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ میری رائے صرف ایک ہے اور یہ تاریخ کے تناظر میں گندھی ہوئی ہے۔

ہندوستان سے بھرپور امن اور کامیاب تجارت کے بغیر‘ اس عذاب کے گرداب کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ مگر جو سیاست دان‘ بھارت سے تعلقات کی بہتری کا ڈول ڈالے گا، اسے فوری طور پر غدار بنا دیا جائے گا۔ ہمارے جس بھی حکمران نے بھارت سے معاملات بہتر کرنے کی کوشش کی اسے حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے۔

نواز شریف کی مثال دیکھ لیجیے۔ پرویز مشرف کے وزیر خارجہ نے کتاب لکھی ہے۔ اس میں برملا درج ہے کہ دونوں حکومتیں کشمیر کا تنازعہ تقریباً حل کر چکی تھیں۔ مگر پھر بین الاقوامی قوتوں کی مداخلت سے حکومتیں بدل دی گئیں۔ دلیل پر بات کیجیے ۔ دشمنی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ دنیا کی بہترین عسکری طاقت بھی پیہم جنگ نہیں لڑ سکتی۔ War Fatigueایک جامع سچ ہے۔ مگر یہاں کون ہمت کرے گا کہ ایسے فیصلے کر سکے‘ جن سے ملک میں امن قائم ہو پائے۔

 آپ مانیں یا نہ مانیں ‘بھارت ایک بڑا ملک ہے۔ اس کی اقتصادی طاقت ہم سے بہت زیادہ ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو نہیں چاہیے کہ اس ملک سے بامعنی مذاکرات کریں۔ تجارت کھولنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ شاید اسی حکمت عملی سے ملک کے اندر دہشت گردی رک جائے؟ ہمسایوں سے صلح کرنے کے اقدامات کریں۔ شاید ہمارے حالات بہتر ہو جائیں! مگر یہ بات کوئی سنے گا نہیں اور مانے گا بھی نہیں!

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی حکمت عملی رہے ہیں ملک کے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع