حکمت عملی کو تبدیل ہونا چاہیے!
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
کامیاب حکومتیں اور ریاستیں‘ اپنے دوستوں کی تعداد میں ہر دم اضافہ کرتی ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں امن‘ یگانگت اور ہم آہنگی پیدا کرتی ہیں۔ تمام تنازعات جو ان کے ملک کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں، ان سے دور رہتی ہیں۔ ان خوش بخت حکومتوں کی صرف ایک شعوری کوشش بلکہ جدوجہد ہوتی ہے کہ شہری‘ محفوظ ‘ خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن رہیں۔ یہ عام سی باتیں ہیں جو ہر خاص و عام کو سمجھ آتی ہیں ۔ مگر معاملہ بالکل سادہ نہیں ہے۔ جس طرح کی ریاستوں اور ان کے حکمرانوں کا میں ذکر کر رہا ہوں، وہ محدود ہیں۔
مغرب اور امریکا کے سوا سمجھدار اور دانا ریاستوں کا شدید فقدان ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دنیا میں سطحی سوچ پر قائم حکومتوں کی تعداد اب بہت زیادہ بڑھ چکی ہیں۔ ایشیاء‘ مشرق وسطی‘ روس اور افریقہ اس منفی طرز حکومت کی کامیاب مگر بدقسمت مثالیں ہیں۔ شومئی قسمت سے ہمارا ملک‘ اس منفی فہرست میں شامل ہو چکا ہے جہاں دنیا کی ہرمصیبت مونہہ پھاڑ کر وسائل اور زندگیوں کو نگل رہی ہے۔ موجودہ یا کوئی بھی سابقہ حکومت فلاحی نہیں کہی جا سکتی۔ملک کے پیچیدہ اور غیر پیچیدہ ‘ دونوں طرح کے مسائل ایک مخصوص طرز فکر کی بدولت حل نہیں کیے گئے۔
المیہ یہ ہے کہ جس حکمران نے لوگوں کے لیے کچھ بہتر کرنے کی کوشش کی‘ اسے دیوار میں چنوا دیا گیا۔ غدار ‘ کرپٹ‘ ملک دشمن‘ پیدا گیر اور ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا گیا۔ عوامی مسائل نہ پہلے کبھی اہم تھے اور نہ ہی آج ان کی اہمیت ہے۔ آپ کسی قسم کا حادثہ دیکھنا چاہیں تو وہ ہمارے ملک میں مونہہ سے آگ نکالتا ہوا نظر آئے گا۔ ساتھ ساتھ‘ ایک اور نکتہ بھی موجود ہے۔ خوفناک ترین سطح کی مصیبتوں کو حل کرنے کی کوئی بھی حکمت عملی دکھائی نہیں دے گی۔ خلوص نیت کا فقدان اپنی جگہ‘ مگر اب تو استطاعت پر بھی سنجیدہ سوالات موجود ہیں۔
حالیہ چند دنوں میں ہونے والے واقعات کو اگر غیر جذباتی طریقے سے پرکھیں ‘ تو دل دہل جاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب کے جواب میں پاکستانی مندوب کی تقریر کو حد درجہ بہادرانہ جہت اور فتح کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ ہاں ! آپ دونوں تقاریر کو سنیں تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے سفیر نے الفاظ کے چناؤ اور ادائیگی میں حددرجہ محنت کی ہے۔ مگر صاحبان! یہ صرف تقاریر ہیں، محض الفاظ ہیں‘ اصل بات تو یہی ہے کہ اسرائیل اور امریکا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
مسلم قیادت ‘ اندر سے گھبرائی ہوئی ہے ، البتہ اسرائیل کی مذمت بھرپور طریقے سے کی گئی ہے اور آج بھی جاری ہے۔ سعودی عرب اور اردن بھی اس فضائی دہشت گردی کی طاقتور الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اسرائیلی طیارے کن ممالک کی فضائی حدود سے گذر کر قطر پر حملہ آور ہوئے ، سمجھداروں کے لیے اشارہ کافی ہے ۔ویسے اسرائیلی وزیراعظم بھی مسلم ممالک کے حکمرانوں کے بیانات پر قہقہے ضرور لگاتا ہو گا۔
پاکستان لفاظی مذمت کرنے میں بازی لے گیا اور اسرائیل کے سب سے زیادہ خلاف نظر آتا ہے۔ ہماری ملکی حکمت عملی پر حیرانی ہوتی ہے کہ ہم سے اپنا ملک تو سنبھالا نہیں جاتا‘ مگر ہم چھلانگیں لگا لگا کر‘ اپنے سے طاقتور ممالک کو اپنا ’’ازلی دشمن‘‘ بڑی کامیابی سے بنا رہے ہیں۔ زمینی حقائق کا ادراک کیے بغیر ہم ایک ایسے سفر پر روانہ ہونا چاہتے ہیں‘ جس سے ہمارے پہلے سے گمبھیر مسائل مزید گمبھیر ہو سکتے ہیں۔
دراصل سات دہائیوں سے ہمارے حکمرانوں نے‘ عوام کے ذہنوں میں مختلف طرز کے فوبیاز پیدا کیے ہیں حالانکہ پاکستان جمہوری ملک کے طور پر وجود میں آیا تھا۔ مگر اس کو مسلسل حالت جنگ میں رکھنے کا کام‘ حد درجہ عیاری سے کیا گیا۔ جذباتیت اور عقیدہ پرستی کا ملغوبہ اس طرح بنایا گیا کہ پوری قوم کے مسائل نظر انداز کر کے‘ نسلوں تک کی مخصوص ذہن سازی کردی گئی۔
کوئی ہمیں یہ بتانے کے لیے تیارنہیں کہ ایوب دور میں‘ آپریشن جبرالٹر‘ کیوں شروع کیاگیا؟ اس وقت کے وزیر خارجہ نے کس بنیاد پر ایوب کو یہ اعتماد فروخت کیا کہ ہندوستان بین الاقوامی سرحد کبھی عبور نہیں کرے گا۔ یوں 1965کی جنگ کا آغاز ہوا۔ انڈیا نے ہمارے ملک پر یلغار کر دی تھی۔ جو ایک کامیاب دفاع کے ذریعے‘ برابری کی سطح پر ختم ہوئی تھی۔ 1965کی جنگ کا اصل نقصان یہ تھا کہ ہماری حد درجہ کامیاب صنعتی ترقی کا پہیہ رک گیا۔ مگر کیا یہ سچائی ہمیں کسی سطح پر بتائی جاتی ہے؟ ہرگز نہیں‘ اگر آپ کو اس نکتہ پر اتفاق نہیں‘ تو بین الاقوامی سطح کے غیر جانبدار لکھاریوں اور اخبارات کو پڑھ کر دیکھ لیجیے۔ ہو سکتا ہے‘ آپ قائل ہو جائیں۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کا دانشمندانہ طریقہ یہ تھا کہ آزاد کشمیر کو ہم سوئٹزرلینڈ کی طرز پر ترقی کرواتے۔ اسے پوری دنیا کے لیے ایک مثبت مثال بنا دیتے۔ یقین فرمائیے کہ مقبوضہ کشمیر کو پاکستان میں شامل کرنے کے لیے کسی جنگ کی ضرورت نہیں تھی۔ اس سے آگے کیا لکھوں ‘ بلکہ کیوں لکھوں۔ 70کی جنگ کا نتیجہ کیا نکلا؟حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کیوں چھپائی گئی ؟ کارگل میں ہمیں کتنا بھاری نقصان ہوا۔ یہ سب کچھ ‘ غیر مناسب طرز سے چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی جو شاید آج تک جاری ہے۔
افغانستان کے ساتھ بھی ہمارے معاملات دشمنی تک محدود رہے ہیں بلکہ اب تو بات بہت بڑھ چکی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر ہمارے جوان جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ مگر دہشت گردی کم ہونے کو آ ہی نہیں رہی۔ بلکہ چندہفتوں میں تو اس میں حد درجہ بڑھاوا آ چکا ہے۔ یہ سچ ہے کہ ہمسایہ ممالک ہمارے دو صوبوں میں مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ مگر پوچھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں کہ اس خوفناک صورت حال سے نکلنے کا طریقہ کیا ہے؟ پاکستانی سفارت کاروں سے بات کریں تو نجی محفلوں میں ان کا جواب حکومتی بیانیے سے مختلف بلکہ متضاد ہوتا ہے۔
شاید آج آپ کو یقین نہ آئے کہ ہندوستان میں جنگی پریڈ پر ابتدائی دور میں مہمان خصوصی پاکستان کا گورنر جنرل ہوا کرتا تھا۔ قائداعظم کا یہ جملہ کہ ان کے مالا بار ہلز پر گھر کو صاف ستھرا رکھا جانا چاہیے تاکہ وہ اپنی چھٹیاں ہندوستان میں منا سکیں۔ ان الفاظ کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔ میری رائے صرف ایک ہے اور یہ تاریخ کے تناظر میں گندھی ہوئی ہے۔
ہندوستان سے بھرپور امن اور کامیاب تجارت کے بغیر‘ اس عذاب کے گرداب کو ختم کرنا ناممکن ہے۔ مگر جو سیاست دان‘ بھارت سے تعلقات کی بہتری کا ڈول ڈالے گا، اسے فوری طور پر غدار بنا دیا جائے گا۔ ہمارے جس بھی حکمران نے بھارت سے معاملات بہتر کرنے کی کوشش کی اسے حکومت سے ہاتھ دھونے پڑے۔
نواز شریف کی مثال دیکھ لیجیے۔ پرویز مشرف کے وزیر خارجہ نے کتاب لکھی ہے۔ اس میں برملا درج ہے کہ دونوں حکومتیں کشمیر کا تنازعہ تقریباً حل کر چکی تھیں۔ مگر پھر بین الاقوامی قوتوں کی مداخلت سے حکومتیں بدل دی گئیں۔ دلیل پر بات کیجیے ۔ دشمنی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ دنیا کی بہترین عسکری طاقت بھی پیہم جنگ نہیں لڑ سکتی۔ War Fatigueایک جامع سچ ہے۔ مگر یہاں کون ہمت کرے گا کہ ایسے فیصلے کر سکے‘ جن سے ملک میں امن قائم ہو پائے۔
آپ مانیں یا نہ مانیں ‘بھارت ایک بڑا ملک ہے۔ اس کی اقتصادی طاقت ہم سے بہت زیادہ ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں کو نہیں چاہیے کہ اس ملک سے بامعنی مذاکرات کریں۔ تجارت کھولنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ شاید اسی حکمت عملی سے ملک کے اندر دہشت گردی رک جائے؟ ہمسایوں سے صلح کرنے کے اقدامات کریں۔ شاید ہمارے حالات بہتر ہو جائیں! مگر یہ بات کوئی سنے گا نہیں اور مانے گا بھی نہیں!
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین الاقوامی حکمت عملی رہے ہیں ملک کے
پڑھیں:
ناتمام (آخری قسط)
ہارون صاحب کی کتاب ’’ناتمام‘‘ میں کچھ غیر معمولی شخصیات کے بارے میں لکھی گئی تحریریں بے حد دلنشین ہیں۔ ایک جگہ لکھتے ہیں ’’کبھی کبھی یہ طالب علم سوچتا ہے سیدنا علی بن عثمان ہجویریؒ کے بعد شاید اقبالؔ ہی وہ مفکر تھے، جنھوں نے امت کے ادبار پر دل سوزی کے ساتھ پیہم تدبر کیا، جس برصغیر میں وہ پیدا ہوئے تھے، اسے الوداع کہا تو وہ بدل چکا تھا، مسلم برصغیر کو امید اور امکان کی راہ دکھانے میں ان کا حصہ کسی بھی شخص سے زیادہ تھا، یہ اقبالؔ ہی تھے، جنھوں نے کہا تھا: جہاں کہیںجہاں میں روشنی ہے، مصطفیؐ کے طفیل ہے یا مصطفی ؐ کی تلاش میں! ۔۔۔۔‘‘
’’سیّد ابوالاعلیٰ نے آخری دنوں میں اقبالؔ سے فیض پایا۔ ان کی وفات پر اپنے مضمون ’’اقبالؔ، میرا نفسیاتی سہارا‘‘ میں لکھا ’قرآنِ کریم ان کے لیے ایک شاہ کلید تھا، تمام بند دروازے جس سے کھل جاتے‘آج کل کے دانشور کیا ہیں کہ مغرب کی چکاچوند نے جنھیں اندھا کردیا، جو یہ نہیں سمجھتے کہ ترقی، علم اور ارتقا، تقلید میں نہیں ہوتا، جہاں جو چیز اچھی ہے، وہ لے لی جاتی ہے اور جو ناقص ہو، وہ ترک کردینی چاہیے اور یہ عالمانِ دین ہیں کہ اکیسویں صدی میں قبائلی عہد میں زندہ رہنے پر مصر ہیں، جنھیں سرکارؐ کا پڑھایا ہوا اولین سبق ہی یاد نہیں۔ غوروفکر، حسنِ کلام، حکمت اور دلیل کے ساتھ مکالمہ، دردمندی اور دل سوزی کے ساتھ تفکّر اور تدبّر درکار ہے۔‘‘
مصنّف قائد اور اقبالؒ کا پھر ایک کالم میں ذکر کرتے ہیں ’’یہ قوم اپنے دو عظیم رہنماؤں کو بھول گئی۔ جناح ایسے تھے کہ عمر بھر تین باتوں کا طعنہ انھیں کبھی نہ دیا گیا۔ کبھی وعدہ نہ توڑا، کبھی مالی بے قاعدگی نہیں، کبھی جھوٹ نہ بولا۔ اقبالؔ ایسے کہ تمام فکری تعصبات سے اوپر اٹھ کر سوچ بچار کیا اور پیہم کیا، تمام خلوص، تمام صلابتِ کردار۔۔ نہیں، فقط سیاست سے ہماری زندگی نہیں بدلے گی، تعلیم، غوروفکر اور حسنِ کردار۔ حضورؐ نے ارشاد فرمایا تھا: اللہ جسے ہدایت دینا چاہے، اپنی آنکھ اس پر کھول دیتا ہے۔ دوسروں کے عیب چننے سے نہیں، حیات اپنی اصلاح سے ثمر بار ہوتی ہے۔‘‘ مصنّف نے کیا دلپذیر باتیں لکھی ہیں جو ہرشعبۂ حیات کے لیڈر کو پڑھنی چاہئیں۔
ناتمام میں مصنف نے بھٹوصاحب کا بھی تجزیہ کیا ہے، لکھتے ہیں ’’بھٹو حیرت انگیز خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ تھے۔ 1965کی جنگ کے ہنگام وہ ایک قوم پرست بن کر ابھرے، جب بھارت کے خلاف ہزار سالہ جنگ کا انھوں نے نعرہ لگایا، غریب آدمی کے احساسات کا انھوں نے ادراک کیا، سندھ اور پنجاب میں وہ ایک مقبول رہنما بن کر ابھرے مگر 1970 کے انتخابی نتائج کو عملاً انھوں نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن کو واضح اکثریت حاصل ہوئی تو جنرل یحییٰ سے انھوں نے گٹھ جوڑ کرلیا اور انتقالِ اقتدار کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے، ان دو آدمیوں کی ہوسِ اقتدار نے پاکستان کے دولخت ہونے کی بنیاد فراہم کی۔‘‘
پھر لکھتے ہیں ’’ایک راز بھٹو نے پالیا تھا۔ لیڈر وہ شخص ہوتا ہے، جو کسی قوم کی عمیق ترین، سب سے بنیادی اور سب سے بڑی آرزو کو پوری طرح پہچان لے۔ جنگِ ستمبر تک، وہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے درباری تھے، کبھی اسے صلاح الدین قرار دیتے اور کبھی ایشیا کا ڈیگال۔ جنگِ ستمبر میں پہلی بار دلوں میں یہ امید جاگی کہ کشمیر پہ دشمن بھارت کا تسلّط تمام ہوسکتا ہے، بھٹو نے اس نجیب آرزو کو پہچانا اور اس کا مظہر بن گئے، اقوامِ متحدہ میں جاری مباحث کے دوران، جن کا ایک ایک لفظ غور سے پڑھا اور سنا جایا کرتا، بھٹو نے بھارت کے ’’میسنے‘‘ وزیرِ خارجہ سردار سورن سنگھ کو مخاطب کرکے کہا: لڑنا پڑا تو کشمیر کے لیے ایک ہزار برس تک بھی ہم لڑیں گے، تبھی وہ ہیرو بن کر ابھرے۔ ہاں! مگر ان کا کوئی عقیدہ نہ تھا، قوم پرست وہ یقیناً تھے اور بے شک انھوں نے پہلی بار Anti Estabhishment پارٹی تشکیل دی مگر خود پسند، اقتدار کے حریص اور نرگسیت کے مارے۔ باقی سب تاریخ ہے"
پاکستانی سیاست کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں’’ پاکستانی سیاست اور معاشرے کا مرض یہ ہے کہ سائنسی اندازِ فکر سے وہ محروم ہے۔ تعصّبات اور جذبات کا غلبہ اس قدر ہے کہ کبھی نفرت چھا جاتی ہے اور کبھی محبت۔ بھٹو صاحب کے مداحوں سے عرض کیجیے کہ بے شک مقبول وہ بہت تھے۔
بجا کہ ملک کو انھوں نے دستور عطا کیا، ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی، جذباتی توازن سے مگر وہ محروم تھے اور پرلے درجے کے انتقام پسند۔ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا، اپنی پارٹی کے سیکریٹری جنرل جے رحیم کو پٹوایا۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی ملک سلیمان اور ان کے خاندان کی تذلیل کی، اپنے وزیرِ اعلیٰ حنیف رامے کو شاہی قلعے میں قید رکھا۔ پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر احمد رضا قصوری پر قاتلانہ حملے میں ان کے والد مارے گئے۔ کوئی نہیں سنتا، کوئی نہیں مانتا۔‘‘
کتاب کے مصنّف، عمران خان کے سب سے بڑے سپورٹر تھے اور شاید اب بھی ہیں مگر اس کتاب میں انھوں نے اس کی خامیاں بھی چھپانے کی کوشش نہیں کی، لکھتے ہیں ’’لاہور میں موسم بہار کی ایک سویر جب میں زمان پارک میں اسے ملنے گیا تو وہ ورزش میں مصروف تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ نمودار ہوا اور ضرورت سے زیادہ پُراعتماد لہجے میں کہا’’اپنے جسم پر بھی آدمی کو سرمایہ کاری کرنی چاہیے‘‘ ۔ ’’جی ہاں‘‘۔ عرض کیا ’’اپنے ذہن پر بھی‘‘۔ اسے دھچکا لگا ’’تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے ذہن پہ سرمایہ کاری نہیں کی‘‘۔ ہاں! میں نے جواب دیا ’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔ بدمزہ نہیں، وہ کچھ حیران سا ہوا اور ناشتے میں جُت گیا، پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس۔ مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو وہ دعوت دے‘‘۔
پھر لکھتے ہیں ’’عمران خان اپنی پہاڑ سی غلطیوں کو بھلا کر ظفرمندی کے خواب کا اسیر تھا، 11 مئی کی صبح احسن رشید سے کہا کہ انتخابی نتائج سنتے ہی شوکت خانم اسپتال آجانا کہ جشن منایا جاسکے۔ اپنے بچوں سے لندن میں کہہ آیا تھا کہ اگلی بار وزیراعظم کی حیثیت سے برطانیہ آئے گا۔ نتیجہ نکلا تو صرف اس کی نہیں، پارٹی کے تمام بزر جمہروں کی رائے یہ تھی کہ قبول کرلینا چاہیے۔
الجھے ہوئے ذہن کے ساتھ کئی ماہ وہ مخمصے کا شکار رہا، پارٹی کو ان دنوں دو تین گھنٹے سے زیادہ وقت نہ دیا کرتا۔ شاطروں نے سمجھ لیا کہ اسے الّو بنانے میں کامیاب رہے‘‘۔ ایک اور جگہ لکھتے ہیں ’’ناقابلِ فہم بات یہ ہے کہ دس حلقے کھولنے کی شرط کے ساتھ مفاہمت پہ آمادگی کے بعد تحریکِ انصاف کے سربراہ وزیراعظم کے استعفیٰ کی تاریخیں کیوں دینے لگے؟ نوبت پھر تھرڈ امپائر کی انگلی تک پہنچی، بلا استثنیٰ سبھی کا تاثر یہ تھا کہ کپتان کا اشارہ عسکری قیادت کی طرف ہے۔ کئی دن بعد کپتان نے اعلان کیا کہ ان کی مراد اللہ تعالیٰ سے تھی۔ اللہ تعالیٰ امپائر نہیں، وہ کائنات اور زندگی کا خالق ہے۔ حیات کی تمام حرکیات اور قوانین کا، وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ ذاتِ باری تعالیٰ کو کرکٹ کے امپائر سے تشبیہہ دینا پرلے درجے کی بدذوقی اور سطحیت تھی۔ کپتان اگر انھی لوگوں کے زیرِ اثر رہا، جن کے زیرِ اثر ہے تو مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے‘‘۔
کچھ دوسرے لیڈروں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’چوہدری نثار علی میں صلاحیّت بے پایاں تھی مگر روحانی جہت معمولی۔ کھٹ سے اللہ کی رحمت کا دروازہ کھلتا مگر بن مانگے تو گاہے وہ گھاس بھی نہیں دیتا، چہ جائیکہ عظمت ورفعت۔ یوں بھی عظمت غریبوں، دکھ جھیلنے اور ایثار کرنے والوں کے لیے ہوتی ہے۔ چوہدری کہاں، شریف برادران کہاں، ان کے مقاصد محدود ہیں۔ اقتدار کا انبساط، جو دنیا کا سب سے تباہ کن نشہ ہے، جان چھوڑتا ہی نہیں، عزتِ نفس اور شان وشوکت کا ایک سطحی سا تصور۔عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے۔ پانی پت کی تیسری جنگ لڑنے جاتے ہیں اور لشکر سراج الدولہ سے بدتر۔ رہے علّامہ طاہرالقادری تو جرأت ہی نہیں، جسارت ہی نہیں، فقط زورِ خطابت۔ کوئی دن میں غبارہ پھٹ جائے گا‘‘۔
’’اچھی حکمرانی کی بے تاب تمنا بھی بجا۔ بحث بہت ہوچکی۔ سیاست کے قرینوں سے اب ہم آگاہ ہیں مگراس کے لیے سیاست کافی نہیں زندگی جوڑ توڑ سے بہت بڑی ہے۔ علم اور اخلاق کے بغیر معاشرے، اقوام نہیں، ریوڑ ہوتے ہیں۔ علم، اخلاق اور تربیت۔ قرآن کریم اور اس کا صاحب انوار شارع۔۔ اور ہاں جدید علم!‘‘
ہر طبقۂ فکر کے لوگوں خصوصاً سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہیے۔