پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدہ،وزیر دفاع خواجہ کا اہم بیان
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیردفاع خواجہ آصف کا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی دفاعی معاہدے پر اہم بیان سامنے آ گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں خواجہ آصف کاکہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ کا اہم موڑہے،دو برادر ممالک دشمن کے سامنے صف آرا اور شانہ بشانہ ہیں،رب العزت کے سائے میں دونوں ممالک مشترکہ دشمن کے مقابل ہیں۔
خواجہ آصف کاکہناتھا کہ انشااللہ پوری امت متحد ہوگی، پاکستان زندہ باد، مسلم امہ پائندہ باد۔
اسلام آباد سمیت مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی
پاکستان اور سعودی عرب کے برادرانہ تعلقات کی تاریخ ایک اہم موڑ۔ دو برادر ملک دشمن کے سامنے صف آرا اور شانہ بہ شانہ ۔ رب العزت کے سائے میں مشترک دشمن کے مقابل انشاء اللہ ساری امت متحد ھوگی۔ پاکستان زندہ باد مسلم امہ پائندہ باد https://t.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب کے پاکستان ا دشمن کے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔