پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ تیزی، 100 انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 58 ہزار کی سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروبار کے آغاز پر ہی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی غیر معمولی تیزی کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں بینچ مارک 100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح ایک لاکھ 58 ہزار پوائنٹس عبور کر گیا۔
کاروبار کے دوران 100 انڈیکس میں 1873 پوائنٹس کا نمایاں اضافہ ریکارڈ ہوا، جس کے بعد انڈیکس 1,58,051 پوائنٹس پر جا پہنچا۔ دن کے دوران انڈیکس نے ایک لاکھ 58 ہزار 82 پوائنٹس کی بلند ترین سطح جبکہ ایک لاکھ 56 ہزار 978 پوائنٹس کی نچلی سطح کو بھی چھوا۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی اور بڑے شعبوں میں سرمایہ کاری کے رجحان نے انڈیکس کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز کے اختتام پر 100 انڈیکس 1,56,177 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایک لاکھ
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔