چین اب امریکا پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے،ٹیکنالوجی ماہرین

چین کے انٹرنیٹ ریگولیٹر نے ملک کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو امریکی کمپنی اینوڈیاکی مصنوعی ذہانت کی چِپس خریدنے سے روک دیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سائبر اسپیس ایڈمنسٹریشن آف چائنا (سی اے سی) نے علی بابا اور بائٹ ڈانس سمیت بڑی کمپنیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ اینوڈیا کے خاص طور پر چین کے لیے تیار کردہ RTX Pro 6000D کی ٹیسٹنگ اور آرڈرز بند کردیں۔

ذرائع کے مطابق کئی کمپنیوں نے اس چپ کے ہزاروں یونٹس خریدنے کی تیاری کی تھی اور سرور سپلائرز کے ساتھ ٹیسٹنگ بھی شروع کر دی تھی، لیکن ریگولیٹر کی ہدایت کے بعد یہ عمل روک دیا گیا۔ یہ پابندی اس سے پہلے لگنے والی H20 ماڈل پر قدغن سے بھی زیادہ سخت ہے۔ چینی حکام کا مقف ہے کہ مقامی چپ ساز ادارے، جیسے ہواوے اور کیمبرکون، اب ایسے پراڈکٹس بنا رہے ہیں جو اینوڈیا کے چین کو برآمد ہونے والے ماڈلز کے برابر یا ان سے بہتر ہیں۔

حکام نے حالیہ دنوں میں علی بابا اور بائیڈو جیسے اداروں کو بلا کر مقامی پروڈکٹس کا اینوڈیا کے ماڈلز سے موازنہ بھی کروایا ہے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق بیجنگ مقامی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو آگے بڑھانے اور امریکا پر انحصار کم کرنے کی پالیسی پر سختی سے کاربند ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں چین بھرپور مقابلہ کر سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق