Jasarat News:
2026-06-03@02:46:20 GMT

کلاسیکی غلاموں کی تشویش

اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاگل کتا لوگوں کو کاٹتا پھررہا ہو تو اس مسئلے کا حل انفرادی اور اجتماعی سطح پر کتے کی مذمت نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل کتے کے شکار لوگوں سے محض ہمدردی بھی نہیں ہے، اس مسئلے کاحل زخمیوں کی مرہم پٹی، ویکسی نیشن اور ان کی امداد تک بھی محدود نہیں ہے بلکہ کتے کا خاتمہ ہے۔ یہودی ریاست کے باب میں مسلم حکمرانوں کا خواب آور لاشعور ایسے ہی حل تجویز کرتا ہے۔ انفرادی اور ریاستی سطح پر اسرائیل کی مذمت، اقوام متحدہ میں قراردادیں اور او آئی سی کے اجلاس یا پھر اسرائیل کے شکار ممالک اور لوگوں سے اظہار ہمدردی اور ان کی مالی امداد۔ پاگل کتے کے خاتمے کی بات تو درکنار کوئی اسے پٹا ڈالنے پر بھی تیار نہیں ہے۔

پاگل کتا ہی نہیں اگر کوئی انسان بھی پر امن نہتے شہریوں پر حملہ کررہا ہو، انہیں زندگی سے محروم کررہا ہو تو وہ اسی وقت اپنی زندگی کے حق سے دستبرار اور لوگوں کے درمیان رہنے کی سہولت سے محروم کردیا جاتا ہے۔ افراد ہی نہیں اقوام اور ریاستوں کے معاملے میں بھی یہی کلیہ نافذ ہے۔ اسرائیل ایک قابض ریاست ہے جو جبر اور ظلم سے اپنے قبضے اور توسیع پسندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر قبضے کے پہلے دن سے اس کی حالت ایک پاگل کتے کی سی ہے۔ جو اپنے سامنے آنے والے مظلوم انسانوں پر حملے کررہا ہے، انہیں کاٹ رہا ہے، بھنبھوڑ رہا ہے، زخمی اور قتل کررہا ہے۔ اس کے مجروحین کی تعداد لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہے۔ انسانیت کے خلاف کون سا ظلم ہے اسرائیل نے جس کا ارتکاب نہ کیا ہو۔

انسانیت کے مقابلے میں اسرائیل ’’توسیع ہی سب کچھ ہے‘‘ پر یقین رکھتا ہے خواہ اس مقصد کے لیے فلسطین کے مسلمانوں کی نسل کشی کا ارتکاب کرنا پڑے، ان کی عورتوں اور بچوں کو آگ کے شعلوں میں بھسم کرنا پڑے یا پھر ان کی آبادیوں پر دن رات وحشی فوجی قوت سے بمباری کرنا پڑے۔ یہ لڑائی نہیں ہے، یہ جنگ بھی نہیں ہے۔ جنگ میں فوجوں کا مقابلہ فوجیں کرتی ہیں۔ یہ نہتے انسانوں پر حملے ان کا قتل عام اور نسل کشی ہے۔ جس کی اجازت نہ کسی ریاست کودی جاسکتی ہے، نہ کسی فوج کو، نہ کسی انسان کو اور نہ کسی پا گل کتے کو۔

ان حالات میں انسانیت کے قبرستان میں کھڑے ہوکر اجتماعات منعقد نہیں کیے جاتے، کانفرنسیں طلب نہیں کی جاتیں، قراردادیں پاس نہیں کی جاتیں، گولی کا جواب گولی سے دیا جاتا ہے۔ جہاد کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ہمارے بزدل مسلم اور عرب حکمران! اللہ کی آخری کتاب نے ان ہارے ہوئے بے شرموں کی کیا ہی خوب منظر کشی کی ہے: ’’اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا؟ جب تم سے کہا جائے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین کے ساتھ لگ جاتے ہو۔ کیا تم آخرت کے بجائے دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے؟ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سازو سامان بہت ہی تھوڑا ہے‘‘۔ (التوبہ: 38)

یہودی ریاست سے جنگ جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔ اس وقت انسانیت کی اس سے بڑی خدمت نہیں ہوسکتی کہ یہودی وجود کے ظالم بھیڑیوں اور پاگل کتوں کے خون سے صفحہ ہستی کو سرخ کردیا جائے۔ ان شیطانوں اور مفسدوں کے شرسے اللہ کے مظلوم اور بے کس بندوں کو نجات دلائی جائے۔ یہ انسان نہیں، انسانوں کے بھیس میں درندے اور انسانیت کے دشمن ہیں، یہ شیطان کی امت ہیں جو انسانوں پر ہرطرح کی تباہی اور مصیبتیں نازل کررہی ہیں۔

’’جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے؛ کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ ان کی مدد پر یقینا قدرت رکھتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے گھروں سے بے قصور نکالے گئے، ان کا قصور صرف یہ تھاکہ یہ اللہ کو اپنا پروردگار کہتے تھے‘‘۔ (الحج: 39-40)

ایسے مواقع پر جنگ کی اہمیت، ضرورت اور فرضیت! اللہ کی آخری کتاب کی صدا آفرینی کا رنگ اور قول فیصل ملاحظہ فرمائیے: ’’جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا ہے وہ ظلم وسرکشی کی خاطر لڑتے ہیں، پس شیطان کے دوستوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں‘‘۔ (النساء: 76) قرآن شیطان کے دوستو سے لڑنے کا حکم دیتا ہے لیکن مسلم اور عرب حکمرانوں نے شیطان کے دوستو ں کو اپنا دوست ہی نہیں آقا بنا رکھا ہے۔ قطر نے امریکا اور اسرائیل کو دوست بنانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا لیکن اس کے باوجود شیطان کے دوستوں کی نظر میں ان کی اوقات؟ محض ٹوائلٹ پیپر، ضرورت پوری کرو اور پھینک دو۔ اسرائیل کو کھلی اجازت تھی کہ قطر کے دارالحکومت پر حملہ کرے اور مزے مزے سے ٹہلتا ہوا واپس چلا جائے۔

قطر کی لیوش فائیو اسٹار ائر فورس کا اب کیا کیا جائے؟ سوائے ٹکٹ لگا کر کسی میوزیم کی زینت بنانے کے۔ وہ قطر کی حفاظت تو نہ کرسکی کسی میوزیم میں پڑی قطری شیخوں کے مہنگے داموں خریدے گئے کھلونوں کی داستان عبرت ہی بیان کرسکے گی کہ تیل کے خزانے لٹا کر خریدی گئی ائر فورس دس منٹ بھی اپنے ملک کادفاع نہ کرسکی۔ کسی رن وے پر طیاروں کے فیشن شو میں بھی اس ائر فورس کو عیاشی کے منفی مظہر کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے جیسے پہلے شاہی محلوں میں ہاتھی جھو متے تھے۔ ائر کنڈیشنڈ ہینگروں سے کبھی باہر نہ نکلنے والے یہ طیارے فضا کے شاہین نہیں پنجروں کے توتے ہیں۔ اس لیوش ائر فورس سے تو فلسطینی بچوں کے ہاتھوں میں دبے ہوئے وہ پتھر زیادہ باوقعت تھے جو یہودی وجود کے خلاف نفرت، حقارت اور احتجاج کے مظہر تھے۔

دیگر عرب ممالک کی نمائشی فوجی قوت بھی اسرائیل کے مقابلے میں ڈیکوریشن پیس سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ ان کی افواج بھی نیشنل آرمی کے بجائے ریمپ پر چلنے والی ماڈل کے سوا کچھ نہیں۔ یہ افواج اپنے بادشاہوں اور ان کے محلات کی حفاظت کرتی ہیں اور بس۔ اس سے پہلے کہ یہ چو کیدار اپنی گنیں سیدھی کرنے کا سوچیں اسرائیلی طیارے اپنا کام کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔ قطر پر حملے کے بعد واضح ہو گیا کہ اربوں ڈالر کے مٹی کے کھلونوں کے انبار کھڑے کرلینے اور نمائشی فوج ترتیب دینے اور امریکا سے دفاعی معاہدے کرلینے سے بھی عربوں کا دفاع ناقابل شکست نہیں بن سکتا جب تک امریکا اور اسرائیل کے ایجنٹ حکمران ان ممالک پر قابض ہیں۔

یہ حکمران امریکا اور اسرائیل کے خلاف کوئی حقیقی پر خطر قدم اٹھانا تو درکنار اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ان کا اقتدار امریکا اور اسرائیل کی مخبریوں اور انٹیلی جنس معلومات کا مرہون منت ہے جو انہیں محلاتی سازشوں سے آگاہ کرتے ہیں، ان کے رقیبوں اور حکومت کے دعویداروں کا صفایا کرکے ان کے اقتدار کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ حکمران امریکا اور اسرائیل سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر سابقین سے زیادہ ان کے وفادار اور غلام رہیں گے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ قطر پر حملے نے ان کلاسیکی غلاموں کو خوف ناک تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ آقائوں پر ان کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل انسانیت کے اسرائیل کے کرتے ہیں شیطان کے ائر فورس نہیں ہے نہیں کی ہی نہیں اللہ کی پر حملے ان کی ا اور ان

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان