Jasarat News:
2026-06-02@23:23:59 GMT

کلاسیکی غلاموں کی تشویش

اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پاگل کتا لوگوں کو کاٹتا پھررہا ہو تو اس مسئلے کا حل انفرادی اور اجتماعی سطح پر کتے کی مذمت نہیں ہے۔ اس مسئلے کا حل کتے کے شکار لوگوں سے محض ہمدردی بھی نہیں ہے، اس مسئلے کاحل زخمیوں کی مرہم پٹی، ویکسی نیشن اور ان کی امداد تک بھی محدود نہیں ہے بلکہ کتے کا خاتمہ ہے۔ یہودی ریاست کے باب میں مسلم حکمرانوں کا خواب آور لاشعور ایسے ہی حل تجویز کرتا ہے۔ انفرادی اور ریاستی سطح پر اسرائیل کی مذمت، اقوام متحدہ میں قراردادیں اور او آئی سی کے اجلاس یا پھر اسرائیل کے شکار ممالک اور لوگوں سے اظہار ہمدردی اور ان کی مالی امداد۔ پاگل کتے کے خاتمے کی بات تو درکنار کوئی اسے پٹا ڈالنے پر بھی تیار نہیں ہے۔

پاگل کتا ہی نہیں اگر کوئی انسان بھی پر امن نہتے شہریوں پر حملہ کررہا ہو، انہیں زندگی سے محروم کررہا ہو تو وہ اسی وقت اپنی زندگی کے حق سے دستبرار اور لوگوں کے درمیان رہنے کی سہولت سے محروم کردیا جاتا ہے۔ افراد ہی نہیں اقوام اور ریاستوں کے معاملے میں بھی یہی کلیہ نافذ ہے۔ اسرائیل ایک قابض ریاست ہے جو جبر اور ظلم سے اپنے قبضے اور توسیع پسندی کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ فلسطین کی سرزمین پر قبضے کے پہلے دن سے اس کی حالت ایک پاگل کتے کی سی ہے۔ جو اپنے سامنے آنے والے مظلوم انسانوں پر حملے کررہا ہے، انہیں کاٹ رہا ہے، بھنبھوڑ رہا ہے، زخمی اور قتل کررہا ہے۔ اس کے مجروحین کی تعداد لاکھوں میں نہیں کروڑوں میں ہے۔ انسانیت کے خلاف کون سا ظلم ہے اسرائیل نے جس کا ارتکاب نہ کیا ہو۔

انسانیت کے مقابلے میں اسرائیل ’’توسیع ہی سب کچھ ہے‘‘ پر یقین رکھتا ہے خواہ اس مقصد کے لیے فلسطین کے مسلمانوں کی نسل کشی کا ارتکاب کرنا پڑے، ان کی عورتوں اور بچوں کو آگ کے شعلوں میں بھسم کرنا پڑے یا پھر ان کی آبادیوں پر دن رات وحشی فوجی قوت سے بمباری کرنا پڑے۔ یہ لڑائی نہیں ہے، یہ جنگ بھی نہیں ہے۔ جنگ میں فوجوں کا مقابلہ فوجیں کرتی ہیں۔ یہ نہتے انسانوں پر حملے ان کا قتل عام اور نسل کشی ہے۔ جس کی اجازت نہ کسی ریاست کودی جاسکتی ہے، نہ کسی فوج کو، نہ کسی انسان کو اور نہ کسی پا گل کتے کو۔

ان حالات میں انسانیت کے قبرستان میں کھڑے ہوکر اجتماعات منعقد نہیں کیے جاتے، کانفرنسیں طلب نہیں کی جاتیں، قراردادیں پاس نہیں کی جاتیں، گولی کا جواب گولی سے دیا جاتا ہے۔ جہاد کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ہمارے بزدل مسلم اور عرب حکمران! اللہ کی آخری کتاب نے ان ہارے ہوئے بے شرموں کی کیا ہی خوب منظر کشی کی ہے: ’’اے ایمان والو! تمہیں کیا ہوا؟ جب تم سے کہا جائے کہ اللہ کی راہ میں نکلو تو زمین کے ساتھ لگ جاتے ہو۔ کیا تم آخرت کے بجائے دنیا کی زندگی پر راضی ہو گئے؟ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کا سازو سامان بہت ہی تھوڑا ہے‘‘۔ (التوبہ: 38)

یہودی ریاست سے جنگ جائز ہی نہیں بلکہ فرض ہے۔ اس وقت انسانیت کی اس سے بڑی خدمت نہیں ہوسکتی کہ یہودی وجود کے ظالم بھیڑیوں اور پاگل کتوں کے خون سے صفحہ ہستی کو سرخ کردیا جائے۔ ان شیطانوں اور مفسدوں کے شرسے اللہ کے مظلوم اور بے کس بندوں کو نجات دلائی جائے۔ یہ انسان نہیں، انسانوں کے بھیس میں درندے اور انسانیت کے دشمن ہیں، یہ شیطان کی امت ہیں جو انسانوں پر ہرطرح کی تباہی اور مصیبتیں نازل کررہی ہیں۔

’’جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انہیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے؛ کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ ان کی مدد پر یقینا قدرت رکھتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے گھروں سے بے قصور نکالے گئے، ان کا قصور صرف یہ تھاکہ یہ اللہ کو اپنا پروردگار کہتے تھے‘‘۔ (الحج: 39-40)

ایسے مواقع پر جنگ کی اہمیت، ضرورت اور فرضیت! اللہ کی آخری کتاب کی صدا آفرینی کا رنگ اور قول فیصل ملاحظہ فرمائیے: ’’جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے وہ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں اور جنہوں نے کفر اور سرکشی کا راستہ اختیار کیا ہے وہ ظلم وسرکشی کی خاطر لڑتے ہیں، پس شیطان کے دوستوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں‘‘۔ (النساء: 76) قرآن شیطان کے دوستو سے لڑنے کا حکم دیتا ہے لیکن مسلم اور عرب حکمرانوں نے شیطان کے دوستو ں کو اپنا دوست ہی نہیں آقا بنا رکھا ہے۔ قطر نے امریکا اور اسرائیل کو دوست بنانے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا لیکن اس کے باوجود شیطان کے دوستوں کی نظر میں ان کی اوقات؟ محض ٹوائلٹ پیپر، ضرورت پوری کرو اور پھینک دو۔ اسرائیل کو کھلی اجازت تھی کہ قطر کے دارالحکومت پر حملہ کرے اور مزے مزے سے ٹہلتا ہوا واپس چلا جائے۔

قطر کی لیوش فائیو اسٹار ائر فورس کا اب کیا کیا جائے؟ سوائے ٹکٹ لگا کر کسی میوزیم کی زینت بنانے کے۔ وہ قطر کی حفاظت تو نہ کرسکی کسی میوزیم میں پڑی قطری شیخوں کے مہنگے داموں خریدے گئے کھلونوں کی داستان عبرت ہی بیان کرسکے گی کہ تیل کے خزانے لٹا کر خریدی گئی ائر فورس دس منٹ بھی اپنے ملک کادفاع نہ کرسکی۔ کسی رن وے پر طیاروں کے فیشن شو میں بھی اس ائر فورس کو عیاشی کے منفی مظہر کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے جیسے پہلے شاہی محلوں میں ہاتھی جھو متے تھے۔ ائر کنڈیشنڈ ہینگروں سے کبھی باہر نہ نکلنے والے یہ طیارے فضا کے شاہین نہیں پنجروں کے توتے ہیں۔ اس لیوش ائر فورس سے تو فلسطینی بچوں کے ہاتھوں میں دبے ہوئے وہ پتھر زیادہ باوقعت تھے جو یہودی وجود کے خلاف نفرت، حقارت اور احتجاج کے مظہر تھے۔

دیگر عرب ممالک کی نمائشی فوجی قوت بھی اسرائیل کے مقابلے میں ڈیکوریشن پیس سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی۔ ان کی افواج بھی نیشنل آرمی کے بجائے ریمپ پر چلنے والی ماڈل کے سوا کچھ نہیں۔ یہ افواج اپنے بادشاہوں اور ان کے محلات کی حفاظت کرتی ہیں اور بس۔ اس سے پہلے کہ یہ چو کیدار اپنی گنیں سیدھی کرنے کا سوچیں اسرائیلی طیارے اپنا کام کرکے واپس چلے جاتے ہیں۔ قطر پر حملے کے بعد واضح ہو گیا کہ اربوں ڈالر کے مٹی کے کھلونوں کے انبار کھڑے کرلینے اور نمائشی فوج ترتیب دینے اور امریکا سے دفاعی معاہدے کرلینے سے بھی عربوں کا دفاع ناقابل شکست نہیں بن سکتا جب تک امریکا اور اسرائیل کے ایجنٹ حکمران ان ممالک پر قابض ہیں۔

یہ حکمران امریکا اور اسرائیل کے خلاف کوئی حقیقی پر خطر قدم اٹھانا تو درکنار اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ کیونکہ ان کا اقتدار امریکا اور اسرائیل کی مخبریوں اور انٹیلی جنس معلومات کا مرہون منت ہے جو انہیں محلاتی سازشوں سے آگاہ کرتے ہیں، ان کے رقیبوں اور حکومت کے دعویداروں کا صفایا کرکے ان کے اقتدار کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ یہ حکمران امریکا اور اسرائیل سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ اقتدار میں آکر سابقین سے زیادہ ان کے وفادار اور غلام رہیں گے لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ قطر پر حملے نے ان کلاسیکی غلاموں کو خوف ناک تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ آقائوں پر ان کا اعتماد متزلزل ہو رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل انسانیت کے اسرائیل کے کرتے ہیں شیطان کے ائر فورس نہیں ہے نہیں کی ہی نہیں اللہ کی پر حملے ان کی ا اور ان

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان