اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ میں اپنے عزیز بھائی شہزادہ محمد بن سلمان، ولی عہد اور سعودی عرب کے وزیر اعظم کی جانب سے پرجوش اور والہانہ استقبال پر بہت متاثر ہوا ہوں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعظم نے کہا کہ سعودی ولی عہد اور وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی استقبال نے دل جیت لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ میری آمد پر سعودی شاہی فضائیہ کے طیاروں کی جانب سے والہانہ استقبال حیران کن تھا۔ سعودی مسلح افواج کے چاک و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان پائے جانے والے دیرینہ محبت اور باہمی احترام کا مظہر ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات نئی بلندیوں کی جانب رواں ہیں۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بند سلمان سے میری نہایت خوشگوار اور مفید گفتگو ہوئی جس میں علاقائی چیلنجز پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تعاون کے فروغ پر بات چیت ہوئی۔ دل کی گہرائیوں سے شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن اور قیادت کی تعریف کرتا ہوں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارت اور کاروباری روابط کو وسط دینے میں ان کی خصوصی دلچسپی قابل تعریف ہے۔ میری دعا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی دن دگنی رات چوگنی ترقی کرے اور عظمت کی نئی بلندیوں کو چھوئے۔ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ روز مملکت سعودی عرب کے سرکاری دورے پر اسلام آباد سے ریاض پہنچے جہاں سعودی F-15 لڑاکا طیاروں نے وزیراعظم کا شاندار استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے دفاعی معاہدے پر دستخط کردیے جس کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کی خودمختاری و سالمیت میں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے۔ معاہدے کے تحت پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ اور سعودی عرب کی سلامتی میں ایک سٹرٹیجک پارٹنر بن گیا ہے۔ علاوہ ازیں  سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے دفاعی معاہدے کے بعد اہم بیان جاری کیا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز  پاکستان اور سعودی عرب کے مابین ’سٹرٹیجک باہمی دفاعی معاہدے‘ (SMDA) معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے کی شقوں کے تحت کسی بھی ملک پر بیرونی مسلح حملہ دونوں ممالک پر حملہ تصور ہوگا۔ معاہدے پر دستخط دونوں ممالک کے گہرے دوطرفہ تعلقات اور سکیورٹی تعاون کی توثیق کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس تاریخی معاہدے کے بعد سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر بیان جاری کیا۔ انہوں نے گزشتہ روز ہونے والے دفاعی معاہدے کی خبر ری پوسٹ کرتے ہوئے  لکھا کہ 'سعودیہ اور پاکستان، جارح کے مقابل ایک ہی صف میں، ہمیشہ اور ابد تک'۔  نوائے وقت رپورٹ کے مطابق انہوں نے تاریخی دفاعی معاہدے کی خبر اردو زبان میں بھی پوسٹ کی۔ علاوہ ازیں  وزیراعظم شہباز شریف دورہ سعودی عرب مکمل کرکے لندن پہنچ گئے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم لندن جاتے ہوئے جنیوا میں رکے اور قائد مسلم لیگ ن نوازشریف کی عیادت کی۔ نوازشریف علاج کے لئے جنیوا میں قیام پذیر ہیں۔ریاض کے ڈپٹی گورنر محمد بن عبدالرحمن نے وزیراعظم کو ائر پورٹ پر رخصت کیا۔ جبکہ اس موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیر دفاع خواجہ آصف بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم شہباز شریف دورہ برطانیہ کے بعد امریکا بھی جائیں گے جہاں وہ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: پاکستان اور سعودی عرب کے وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف دفاعی معاہدے وزیر دفاع کے درمیان ولی عہد

پڑھیں:

ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔

امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔

تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری