ڈیجیٹل بینکاری: پاکستان میں کتنے ڈیجیٹل بینک ہیں اور کتنے آنے والے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, September 2025 GMT
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق جون 2025 تک ملک میں 22 کروڑ 60 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں جبکہ 9 کروڑ 60 لاکھ ڈپازٹرز اس وقت بھی فعال ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان: ڈیجیٹل کرنسی کی قانونی حیثیت مؤخر، اسٹیٹ بینک کے شدید تحفظات
20 ہزار اے ٹی ایمز، 195 ہزار پُوائنٹ آف سیل (POS) مشینیں اور 9,500 آن لائن مرچنٹس موجود ہیں۔
ڈیجیٹل لین دین کی طرف تیزی سے پیش رفتگورنر اسٹیٹ بینک نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ ڈیجیٹل چینلز پر تیزی سے بڑھتا ہوا انحصار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی معیشت بتدریج کیش بیسڈ سوسائٹی سے ڈیجیٹل لین دین کی طرف بڑھ رہی ہے۔
9 کروڑ 50 لاکھ سے زائد موبائل بینکنگ ایپ صارفین فعال ہیں، 1 کروڑ 70 لاکھ انٹرنیٹ بینکنگ صارفین سروسز استعمال کر رہے ہیں، 7 لاکھ سے زائد برانچ لیس بینکنگ ایجنٹس اور تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار QR/والٹ مرچنٹس عوام کو سہولت فراہم کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کی معاونت سے پاکستان میں ڈیجیٹل کیس مینجمنٹ سسٹم کا آغاز
اس کے علاوہ 4 کروڑ 60 لاکھ سے زائد صارفین “راست” (Raast IDs) پر رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔
ملک میں فعال ڈیجیٹل بینکپاکستان میں فی الحال 2 ڈیجیٹل بینک کام کر رہے ہیں جن میں ایزی پیسہ اور مشرق بینک شامل ہیں۔
مشرق بینک اس وقت 19 شہروں میں 450 ملازمین کے ساتھ فعال ہے جن میں 46 فیصد خواتین شامل ہیں۔ تمام ملازمین گھروں سے کام کر رہے ہیں اور یہ ڈیجیٹل بینک برانچوں کے بغیر کام کر رہے ہیں۔
نئے ڈیجیٹل بینک کب آئیں گے؟4 دسمبر سے کویت کی معاونت سے ایک نیا ڈیجیٹل بینک لانچ کیا جا رہا ہے، جبکہ مزید 2 ڈیجیٹل بینک فروری 2026 سے آپریشنز شروع کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:صدر آصف زرداری کا دورہ چین: ڈیجیٹل طرز حکمرانی کے ماڈل میں گہری دلچسپی کا اظہار
ان بینکوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صارفین کو مکمل بینکاری سہولیات فراہم کریں گے، وہ بھی بغیر کسی برانچ کے۔
ڈیجیٹل پیمنٹس اپنانے کے اہدافاسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 5 لاکھ مرچنٹس ڈیجیٹل پیمنٹس قبول کر رہے ہیں، جنہیں آئندہ سالوں میں بڑھا کر 20 لاکھ تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ مرچنٹس پر پہلے سے عائد 0.
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان ڈیجیٹل بینک ڈیجیٹل بینکنگ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ڈیجیٹل بینک ڈیجیٹل بینکنگ لاکھ سے زائد ڈیجیٹل بینک اسٹیٹ بینک کر رہے ہیں
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔